سورة الصافات

سورہ 37 · مکی · 182 آیات

37:1پارہ 23 · ص 446

وَالصَّافَّاتِ صَفًّا1

قسم ہے صف باندھنے والے (فرشتوں) کی.
37:2پارہ 23 · ص 446

فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا2

پھر پوری طرح ڈانٹنے والوں کی.
37:3پارہ 23 · ص 446

فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا3

پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی.
37:4پارہ 23 · ص 446

إِنَّ إِلَٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ4

یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے.*
____________________
* صَافَّاتٌ، زَاجِرَاتٌ، تَالِياتٌ فرشتوں کی صفات ہیں۔ آسمانوں پر اللہ کی عبادت کے لئے صف باندھنے والے، یا اللہ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ، وعظ ونصیحت کے ذریعے سے لوگوں کوڈانٹنے والے یا بادلوں کو، جہاں اللہ کا حکم ہو، وہاں ہانک کر لےجانے والے۔ اللہ کا ذکر یا قرآن کی تلاوت کرنے والے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے مضمون یہ بیان فرمایا کہ تمام انسانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ متعدد نہیں، جیسا کہ مشرکین بنائےہوئے ہیں۔ عرف عام میں قسم تاکید اور شک دور کرنے کے لئےکھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں قسم اسی شک کو دور کرنے کے لئےکھائی ہے جو مشرکین اس کی وحدانیت والوہیت کے بارے میں پھیلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر چیز اللہ کی مخلوق اور مملوک ہے، اس لئے وہ جس چیز کو بھی گواہ بنا کر اس کی قسم کھائے، اس کے لئے جائز ہے۔ لیکن انسانوں کےلئے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا بالکل ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ قسم میں، جس کی قسم کھائی جاتی ہے، اسے گواہ بنانا مقصود ہوتا ہے۔ اور گواہ اللہ کے سوا کوئی نہیں بن سکتا، کہ عالم الغیب صرف وہی ہے، اس کےسوا کوئی عالم الغیب نہیں۔
37:5پارہ 23 · ص 446

رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ5

آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں اور مَشرقوں کا رب وہی ہے.*
____________________
* مطلب ہے مشارق ومغارب کا رب۔ جمع کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیاہے جیسا کہ، بعض کہتے ہیں کہ سال کے دنوں کی تعداد کے برابر مشرق ومغرب ہیں۔ سورج ہر روز ایک مشرق سے نکلتا اور ایک مغرب میں غروب ہوتا ہے اور سورۂ رحمٰن میں مَشْرِقَيْنِ اور مَغْرِبَيْنِ، تثنیہ کے ساتھ ہیں یعنی دو مشرق اور دو مغرب۔ اس سے مراد وہ مشرقین اور مغربین ہیں جن سے سورج گرمی اور سردی میں طلوع وغروب ہوتا ہے یعنی ایک انتہائی آخری مشرق ومغرب اور دوسرا مختصر یا قریب ترین مشرق ومغرب اور جہاں مشرق ومغرب کو مفرد ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ جہت ہے جس سے سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ (فتح القدیر)۔
37:6پارہ 23 · ص 446

إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ6

ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا.
37:7پارہ 23 · ص 446

وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ7

اور حفاﻇت کی سرکش شیطان سے.*
____________________
* یعنی آسمان دنیا پر، زینت کے علاوہ، ستاروں کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ سرکش شیاطین سے حفاظت ہو۔ چنانچہ شیطان آسمان پرکوئی بات سننے کے لئے جاتے ہیں تو ستارے ان پر ٹوٹ کر گرتے ہیں جس سے بالعموم شیطان جل جاتے ہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات اور احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ ستاروں کا ایک تیسرا مقصد رات کی تاریکیوں میں رہنمائی بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر بیان فرمایا گیا ہے۔ ان مقاصد سہ گانہ کے علاوہ ستاروں کا اور کوئی مقصد بیان نہیں کیا گیا ہے۔
37:8پارہ 23 · ص 446

لَا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ8

عالم باﻻ کے فرشتوں (کی باتوں) کو سننے کے لئے وه کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وه مارے جاتے ہیں.
37:9پارہ 23 · ص 446

دُحُورًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ9

بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے.
37:10پارہ 23 · ص 446

إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ10

مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے.
37:11پارہ 23 · ص 446

فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمْ مَنْ خَلَقْنَا ۚ إِنَّا خَلَقْنَاهُمْ مِنْ طِينٍ لَازِبٍ11

ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے (ان کے علاوه) پیدا کیا*؟ ہم نے (انسانوں) کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے.**
____________________
* یعنی ہم نےجو زمین، ملائکہ اور آسمان جیسی چیزیں بنائی ہیں جو اپنے حجم اور وسعت کے لحاظ سے نہایت انوکھی ہیں۔ کیا ان لوگوں کی پیدائش اور دوبارہ ان کو زندہ کرنا، ان چیزوں کی تخلیق سےزیادہ سخت اور مشکل ہے؟ یقیناً نہیں۔
**- یعنی ان کے باپ آدم (عليه السلام) کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ انسان آخرت کی زندگی کو اتنا مستبعد کیوں سمجھتے ہیں دراں حالیکہ ان کی پیدائش ایک نہایت ہی حقیر اور کمزور چیز سے ہوئی ہے۔ جب کہ خلقت میں ان سے زیادہ قوی، عظیم اور کامل واتم چیزوں کی پیدائش کا ان کو انکار نہیں۔ (فتح القدیر)۔
37:12پارہ 23 · ص 446

بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ12

بلکہ تو تعجب کر رہا ہے اور یہ مسخرا پن کر رہے ہیں.*
____________________
* یعنی آپ کو تو منکرین آخرت کے انکار پر تعجب ہو رہا ہے کہ اس کے امکان بلکہ وجوب کےاتنے واضح دلائل کے باوجود وہ اسے مان کر نہیں دے رہے اور وہ آپ کے دعوائے قیامت کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ یہ کیوں کر ممکن ہے؟
37:13پارہ 23 · ص 446

وَإِذَا ذُكِّرُوا لَا يَذْكُرُونَ13

اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے یہ نہیں مانتے.
37:14پارہ 23 · ص 446

وَإِذَا رَأَوْا آيَةً يَسْتَسْخِرُونَ14

اور جب کسی معجزے کو دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں.
37:15پارہ 23 · ص 446

وَقَالُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ15

اور کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل کھلم کھلا جادو ہی ہے.*
____________________
* یعنی یہ ان کا شیوہ ہے کہ نصیحت قبول نہیں کرتے اور کوئی واضح دلیل یا معجزہ پیش کیا جائے تو استہزا کرتے اور انہیں جادو باور کراتے ہیں۔
37:16پارہ 23 · ص 446

أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ16

کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک اور ہڈی ہو جائیں گے پھر کیا (سچ مچ) ہم اٹھائے جائیں گے؟
37:17پارہ 23 · ص 446

أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ17

کیا ہم سے پہلے کے ہمارے باپ دادا بھی؟
37:18پارہ 23 · ص 446

قُلْ نَعَمْ وَأَنْتُمْ دَاخِرُونَ18

آپ جواب دیجئے! کہ ہاں ہاں اور تم ذلیل (بھی) ہوں گے.*
____________________
* جس طرح دوسرے مقام پر بھی فرمایا «وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» (النمل: 87) ”سب اس کی بارگاہ میں ذلیل ہو کر آئیں گے“۔ «إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ» (المؤمن: 60) ”جو لوگ میری عبادت سے انکار کرتے ہیں، عنقریب وہ جہنم میں ذلیل وخوار ہو کر داخل ہوں گے“۔
37:19پارہ 23 · ص 446

فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُمْ يَنْظُرُونَ19

وه تو صرف ایک زور کی جھڑکی ہے* کہ یکایک یہ دیکھنے لگیں گے.**
____________________
* یعنی وہ اللہ کے ایک ہی حکم اور اسرافیل (عليه السلام) کی ایک ہی پھونک (نفخۂ ثانیہ) سے قبروں سے زندہ ہو کر نکل کھڑے ہوں گے۔
**- یعنی ان کے سامنے قیامت کے ہولناک مناظر اور میدان حشر کی سختیاں ہوں گی جنہیں وہ دیکھیں گے۔ نفخے یا چیخ کو زجرہ (ڈانٹ) سے تعبیر کیا، کیونکہ اس سے مقصود ڈانٹ ہی ہے۔
37:20پارہ 23 · ص 446

وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَٰذَا يَوْمُ الدِّينِ20

اور کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی یہی جزا (سزا) کا دن ہے.
37:21پارہ 23 · ص 446

هَٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ21

یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلاتے رہے.*
____________________
* وَيْلٌ کا لفظ ہلاکت کے موقع پر بولا جاتا ہے، یعنی معاینۂ عذاب کے بعد انہیں اپنی ہلاکت صاف نظر آرہی ہوگی اور اس سے مقصود ندامت کا اظہار اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف ہے لیکن اس وقت ندامت اور اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی لئے ان کےجواب میں فرشتے اور اہل ایمان کہیں گے کہ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم مانتے نہیں تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو کہیں گے۔
37:22پارہ 23 · ص 446

۞ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ22

ﻇالموں کو* اور ان کے ہمراہیوں کو** اور (جن) جن کی وه اللہ کے علاوه پرستش کرتے تھے.***
____________________
* یعنی جنہوں نے کفر وشرک اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا۔
**- اس سے مراد کفر وشرک اور تکذیب رسل کے ساتھی یا بعض کےنزدیک جنات وشیاطین ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ بیویاں ہیں جو کفر وشرک میں ان کی ہمنوا تھیں۔
***- مَا، عام ہے، تمام معبودین کو چاہے، وہ مورتیاں ہوں یا اللہ کے نیک بندے، سب کو ان کی تذلیل کے لئے جمع کیا جائے گا۔ تاہم نیک لوگوں کو تو اللہ جہنم سے دور ہی رکھے گا، اور دوسرے معبودوں کو ان کے ساتھ ہی جہنم میں ڈال دیا جائے گا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ یہ کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔
37:23پارہ 23 · ص 446

مِنْ دُونِ اللَّهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ23

(ان سب کو) جمع کرکے انہیں دوزخ کی راه دکھا دو.
37:24پارہ 23 · ص 446

وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ24

اور انہیں ٹھہرا لو*، (اس لئے) کہ ان سے (ضروری) سوال کیے جانے والے ہیں.
____________________
* یہ حکم جہنم میں لے جانے سے قبل ہوگا، کیونکہ حساب کے بعد ہی وہ جہنم میں جائیں گے۔
37:25پارہ 23 · ص 447

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ25

تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ (اس وقت) تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے.
37:26پارہ 23 · ص 447

بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ26

بلکہ وه (سب کے سب) آج فرمانبردار بن گئے.
37:27پارہ 23 · ص 447

وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ27

وه ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال وجواب کرنے لگیں گے.
37:28پارہ 23 · ص 447

قَالُوا إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ28

کہیں گے کہ تم تو ہمارے پاس ہماری دائیں طرف سے آتے تھے.*
____________________
* اس کا مطلب یہ ہے کہ دین اور حق کے نام سے آتے تھے یعنی باور کراتے تھے کہ یہی اصل دین اور حق ہے۔ اور بعض کے نزدیک مطلب ہے، ہر طرف سے آتے تھے، وَالشِّمَالِ محذوف ہے۔ جس طرح شیطان نے کہا تھا ”میں ان کے آگے، پیچھے سے، ان کے دائیں بائیں سے ہر طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا“۔ (الأعراف: 17)۔
37:29پارہ 23 · ص 447

قَالُوا بَلْ لَمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ29

وه جواب دیں گے کہ نہیں بلکہ تم ہی ایمان والے نہ تھے.*
____________________
- لیڈر کہیں گے کہ ایمان تم اپنی مرضی سے نہیں لائے اور آج ذمے دار ہمیں ٹھہرا رہے ہو؟
37:30پارہ 23 · ص 447

وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ ۖ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طَاغِينَ30

اور کچھ ہمارا زور تو تم پر تھا (ہی) نہیں۔ بلکہ تم (خود) سرکش لوگ تھے.*
____________________
* تابعین اور متبوعین کی یہ باہمی تکرار قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کی گئی ہے۔ ان کی ایک دوسرے کو یہ ملامت عرصۂ قیامت (میدان محشر) میں بھی ہوگی اور جہنم میں جانے کے بعد جہنم کے اندر بھی۔ ملاحظہ ہو۔ المؤمن: 48-47، سبا: 32-31، الاحزاب:68-67، الاعراف:39- 38 وَغَيْرهَا مِنَ الآيَاتِ۔
37:31پارہ 23 · ص 447

فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا ۖ إِنَّا لَذَائِقُونَ31

اب تو ہم (سب) پر ہمارے رب کی یہ بات ﺛابت ہو چکی کہ ہم (عذاب) چکھنے والے ہیں.
37:32پارہ 23 · ص 447

فَأَغْوَيْنَاكُمْ إِنَّا كُنَّا غَاوِينَ32

پس ہم نے تمہیں گمراه کیا ہم تو خود بھی گمراه ہی تھے.*
____________________
* یعنی جس بات کی پہلے، انہوں نے نفی کی، کہ ہمارا تم پر کون سا زور تھا کہ تمہیں گمراہ کرتے۔ اب اس کا یہاں اعتراف ہے کہ ہاں واقعی ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا۔ لیکن یہ اعتراف اس تنبیہ کے ساتھ کیا کہ ہمیں اس ضمن میں مورد طعن مت بناؤ، اس لئے کہ ہم خود بھی گمراہ ہی تھے، ہم نے تمہیں بھی اپنے جیسا ہی بنانا چاہا اور تم نے آسانی سے ہماری راہ اپنالی۔ جس طرح شیطان بھی اس روز کہے گا۔ «وَمَا كَانَ لِي عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ» (إبراهيم: 22)۔
37:33پارہ 23 · ص 447

فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ33

سو اب آج کے دن تو (سب کے سب) عذاب میں شریک ہیں.*
____________________
* اس لئے کہ ان کا جرم بھی مشترکہ ہے، شرک، معصیت اور شر وفساد ان سب کا وطیرہ تھا۔
37:34پارہ 23 · ص 447

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ34

ہم گناه گاروں کے ساتھ اسی طرح کیا کرتے ہیں.*
____________________
* یعنی ہر قسم کے گناہ گاروں کے ساتھ ہمارا یہی معاملہ ہے اور اب وہ سب ہمارا عذاب بھگتیں گے۔
37:35پارہ 23 · ص 447

إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ35

یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے.*
____________________
* یعنی دنیا میں، جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جس طرح مسلمانوں نے یہ کلمہ پڑھ کر شرک ومعصیت سے توبہ کر لی ہے، تم بھی یہ پڑھ لو، تاکہ تم دنیا میں بھی مسلمان کے قہر وغضب سےبچ جاؤ اور آخرت میں بھی عذاب الٰہی سے تمہیں دوچار ہونا نہ پڑے، تو وہ تکبر کرتے اور انکار کرتے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے۔ «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَه إِلا اللهُ، فَمَنْ قَالَ (لا إِلَه إِلا اللهُ) فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ» (متفق عليه، مشكاة، كتاب الإيمان بحواله ابن كثير) ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں۔ جس نے یہ اقرار کر لیا، اس نے اپنی جان اور مال کی حفاظت کر لی“۔
37:36پارہ 23 · ص 447

وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ36

اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟*
____________________
* یعنی انہوں نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو شاعر اور مجنون کہا اور آپ کی دعوت کو جنون (دیوانگی) اور قرآن کو شعر سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایک دیوانے کی دیوانگی پر ہم اپنے معبودوں کو کیوں چھوڑ دیں؟ حالانکہ یہ دیوانگی نہیں، فرزانگی تھی، شاعری نہیں، حقیقت تھی اور اس دعوت کے اپنانے میں ان کی ہلاکت نہیں، نجات تھی۔
37:37پارہ 23 · ص 447

بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ37

(نہیں نہیں) بلکہ (نبی) تو حق (سچا دین) ﻻئے ہیں اور سب رسولوں کو سچا جانتے ہیں.*
____________________
* یعنی تم ہمارے پیغمبر کو شاعر اور مجنون کہتے ہو، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ لایا اور پیش کر رہا ہے، وہ سچ ہے اور وہی چیز ہے جو اس سے قبل تمام انبیا بھی پیش کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ کام کسی دیوانے کا یا کسی شاعر کے تخیلات کا نتیجہ ہو سکتا ہے؟
37:38پارہ 23 · ص 447

إِنَّكُمْ لَذَائِقُو الْعَذَابِ الْأَلِيمِ38

یقیناً تم دردناک عذاب (کا مزه) چکھنے والے ہو.
37:39پارہ 23 · ص 447

وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ39

تمہیں اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے.*
____________________
* یہ جہنمیوں کو اس وقت کہا جائے گا جب وہ کھڑے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے اور ساتھ ہی وضاحت کر دی جائے گی کہ یہ ظلم نہیں ہے بلکہ عین عدل ہے کیونکہ یہ سب تمہارے اپنے عملوں کا بدلہ ہے۔
37:40پارہ 23 · ص 447

إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ40

مگر اللہ تعالیٰ کے خالص برگزیده بندے.*
____________________
* یعنی یہ عذاب سے محفوظ ہوں گے، ان کی کوتاہیوں سے بھی درگزر کر دیا جائے گا، اگر کچھ ہوں گی اور ایک ایک نیکی کا اجر انہیں کئی کئی گنا دیا جائے گا۔
37:41پارہ 23 · ص 447

أُولَٰئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ41

انہیں کے لئے مقرره روزی ہے.
37:42پارہ 23 · ص 447

فَوَاكِهُ ۖ وَهُمْ مُكْرَمُونَ42

(ہر طرح کے) میوے، اور وه باعزت واکرام ہوں گے.
37:43پارہ 23 · ص 447

فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ43

نعمتوں والی جنتوں میں.
37:44پارہ 23 · ص 447

عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ44

تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے (بیٹھے) ہوں گے.
37:45پارہ 23 · ص 447

يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ45

جاری شراب کے جام کا ان پر دور چل رہا ہوگا.*
____________________
* كَأْسٌ، شراب کے بھرے ہوئے جام کو اور قدح خالی جام کو کہتے ہیں۔ مَعِينٍ کےمعنی ہیں۔ جاری چشمہ۔ مطلب یہ ہے کہ جاری چشمے کی طرح، جنت میں شراب ہر وقت میسر رہے گی۔
37:46پارہ 23 · ص 447

بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ46

جو صاف شفاف اور پینے میں لذیذ ہوگی.*
____________________
* دنیا میں شراب عام طور پر بد رنگ ہوتی ہے، جنت میں وہ جس طرح لذیذ ہوگی خوش رنگ بھی ہوگی۔
37:47پارہ 23 · ص 447

لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ47

نہ اس سے درد سر ہو اور نہ اس کے پینے سے بہکیں.*
____________________
* یعنی دنیا کی شراب کی طرح اس میں قے، سر درد، بدمستی اور بہکنے کا اندیشہ نہیں ہوگا۔
37:48پارہ 23 · ص 447

وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ48

اور ان کے پاس نیچی نظروں، بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی.*
____________________
* بڑی اور موٹی آنکھیں حسن کی علامت ہے یعنی حسین آنکھیں ہوں گی۔
37:49پارہ 23 · ص 447

كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ49

ایسی جیسے چھپائے ہوئے انڈے.*
____________________
* یعنی شتر مرغ اپنے پروں کے نیچے چھپائے ہوئے ہوں، جس کی وجہ سے وہ ہوا اور گرد وغبار سے محفوظ ہوں گے۔ کہتے ہیں شتر مرغ کے انڈے بہت خوش رنگ ہوتے ہیں، جو زردی مائل سفید ہوتے ہیں اور ایسا رنگ حسن وجمال کی دنیا میں سب سے عمدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ تشبیہ، صرف سفیدی میں نہیں ہے بلکہ خوش رنگی اور حسن ورعنائی میں ہے۔
37:50پارہ 23 · ص 447

فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ50

(جنتی) ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھیں گے.*
____________________
* جنتی، جنت میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے، دنیا کے واقعات یاد کریں گے اور ایک دوسرے کو سنائیں گے۔
37:51پارہ 23 · ص 447

قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ51

ان میں سے ایک کہنے واﻻ کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا.
37:52پارہ 23 · ص 448

يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ52

جو (مجھ سے) کہا کرتا تھا کہ کیا تو (قیامت کے آنے کا) یقین کرنے والوں میں سے ہے؟*
____________________
* یعنی یہ بات وہ استہزا اور مذاق کے طور پر کہا کرتا تھا، مقصد اس کا یہ تھا کہ یہ تو ناممکن ہے کیا ایسی ناممکن الوقوع بات پر تو یقین رکھتا ہے؟
37:53پارہ 23 · ص 448

أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ53

کیا جب کہ ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے کیا اس وقت ہم جزا دیئے جانے والے ہیں؟*
____________________
* یعنی ہمیں زندہ کرکے ہمارا حساب لیاجائے گا اور پھر اس کے مطابق جزا دی جائے گی؟
37:54پارہ 23 · ص 448

قَالَ هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ54

کہے گا تم چاہتے ہو کہ جھانک کر دیکھ لو؟*
____________________
* یعنی وہ جنتی، اپنے جنت کے ساتھیوں سے کہے گا کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ ذرا جہنم میں جھانک کر دیکھیں، شاید مجھے یہ باتیں کہنے والا وہاں نظر آجائے تو تمہیں بتلاؤں کہ یہ شخص تھا جو یہ باتیں کرتا تھا۔
37:55پارہ 23 · ص 448

فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ55

جھانکتے ہی اسے بیچوں بیچ جہنم میں (جلتا ہوا) دیکھے گا.
37:56پارہ 23 · ص 448

قَالَ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ56

کہے گا واللہ! قریب تھا کہ تو مجھے (بھی) برباد کر دے.
37:57پارہ 23 · ص 448

وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ57

اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کئے جانے والوں میں ہوتا.*
____________________
* یعنی جھانکنے پر اسے جہنم کے وسط میں وہ شخص نظر آجائے گا اور اسے یہ جنتی کہے گا کہ مجھے بھی تو گمراہ کرکے ہلاکت میں ڈالنے لگا تھا، یہ تو مجھ پر اللہ کا احسان ہوا، ورنہ آج میں بھی تیرے ساتھ جہنم میں ہوتا۔
37:58پارہ 23 · ص 448

أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ58

کیا (یہ صحیح ہے) کہ ہم مرنے والے ہی نہیں؟*
____________________
* جہنمیوں کاحشر دیکھ کر جنتی کے دل میں رشک کا جذبہ مزید بیدار ہو جائے گا اور کہے گا کہ ہمیں جو جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ملی ہیں، کیا یہ دائمی نہیں؟ اور اب ہمیں موت آنے والی نہیں ہے؟ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اب یہ زندگیاں دائمی ہیں، جنتی ہمیشہ جنت میں اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، نہ انہیں موت آئے گی کہ جہنم کے عذاب سے چھوٹ جائیں اور نہ ہمیں، کہ جنت کی نعمتوں سے محروم ہو جائیں، جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں جنت اور دوزخ کے درمیان لا کر ذبح کر دیاجائے گا کہ اب کسی کوموت نہیں آئے گی۔
37:59پارہ 23 · ص 448

إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ59

بجز پہلی ایک موت* کے، اور نہ ہم عذاب کیے جانے والے ہیں.
____________________
* جو دنیا میں آچکی۔ اب ہمارے لئے موت ہے نہ عذاب۔
37:60پارہ 23 · ص 448

إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ60

پھر تو (ﻇاہر بات ہے کہ) یہ بڑی کامیابی ہے.*
____________________
* اس لئے کہ جہنم سے بچ جانے اور جنت کی نعمتوں کا مستحق قرار پا جانے سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہوگی؟
37:61پارہ 23 · ص 448

لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ61

ایسی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے.*
____________________
* یعنی اس جیسی نعمت اور اس جیسے فضل عظیم ہی کے لئے محنت کرنے والوں کو محنت کرنی چاہئے، اس لئے کہ یہی سب سے نفع بخش تجارت ہے۔ نہ کہ دنیا کے لئے جو عارضی ہے۔ اور خسارے کا سودا ہے۔
37:62پارہ 23 · ص 448

أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ62

کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا سینڈھ (زقوم) کا درخت؟*
____________________
* زَقُّومٌ، تَزَقُّمٌ سے مشتق ہے، جس کےمعنی بدبودار اور کریہ چیز کے نگلنے کے ہیں۔ اس درخت کا پھل بھی کھانا اہل جہنم کے لئےسخت ناگوار ہوگا۔ کیوں کہ یہ سخت بدبو دار، کڑوا اور نہایت کریہ ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ دنیا کے درختوں میں سے ہے اور عربوں میں متعارف ہے، یہ قطرب درخت ہے جو تہامہ میں پایا جاتا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ کوئی دنیاوی درخت نہیں ہے، اہل دنیا کے لئے یہ غیر معروف ہے۔ (فتح القدیر) لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اور یہ وہی درخت ہے جسے اردو میں سینڈھ یا تھوہر کہتے ہیں۔
37:63پارہ 23 · ص 448

إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِلظَّالِمِينَ63

جسے ہم نے ﻇالموں کے لئے سخت آزمائش بنا رکھا ہے.*
____________________
* آزمائش، اس لئے کہ اس کا پھل کھانا بجائے خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ بعض نے اسے اس اعتبار سے آزمائش کہا کہ اس کے وجود کا انہوں نے انکار کیا کہ جہنم میں جب ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی تو وہاں درخت کس طرح موجود رہ سکتا ہے؟ یہاں ظالمین سے مراد وہ اہل جہنم ہیں جن پر جہنم واجب ہوگی۔
37:64پارہ 23 · ص 448

إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ64

بے شک وه درخت جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے.*
____________________
* یعنی اس کی جڑ جہنم کی گہرائی میں ہوگی البتہ اس کی شاخیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہوں گی۔
37:65پارہ 23 · ص 448

طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ65

جس کے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہوتے ہیں.*
____________________
* اسے شناعت وقباحت میں شیطانوں کےسروں سے تشبیہ دی، جس طرح اچھی چیز کے بارے میں کہتے ہیں گویا کہ وہ فرشتہ ہے۔
37:66پارہ 23 · ص 448

فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ66

(جہنمی) اسی درخت سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے.*
____________________
* یہ انہیں نہایت کراہت سے کھانا پڑے گا جس سے ظاہر بات ہے پیٹ بوجھل ہی ہوں گے۔
37:67پارہ 23 · ص 448

ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ67

پھر اس پر گرم جلتے جلتے پانی کی ملونی ہوگی.*
____________________
* یعنی کھانے کے بعد انہیں پانی کی طلب ہوگی تو کھولتا ہوا گرم پانی انہیں دیا جائے گا، جس کے پینے سے ان کی انتڑیاں کٹ جائیں گی۔ (سورۂ محمد: 15)۔
37:68پارہ 23 · ص 448

ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ68

پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی (آگ کے ڈھیرکی) طرف ہوگا.*
____________________
* یعنی زقوم کےکھانے اور گرم پانی کے پینے کے بعد انہیں دوبارہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
37:69پارہ 23 · ص 448

إِنَّهُمْ أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ ضَالِّينَ69

یقین مانو! کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا پایا.
37:70پارہ 23 · ص 448

فَهُمْ عَلَىٰ آثَارِهِمْ يُهْرَعُونَ70

اور یہ انہی کے نشان قدم پر دوڑتے رہے.*
____________________
* یہ جہنم کی مذکورہ سزاوں کی علت ہے کہ اپنے باپ دادوں کو گمراہی پر پانے کے باوجود یہ انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے اور دلیل وحجت کے مقابلے میں تقلید کو اپنائے رکھا، إِهْرَاعٌ إِسْرَاعٌ کے معنی میں ہے یعنی دوڑنا اور نہایت شوق سے اور لپک کر پکڑنا اور اختیار کرنا۔
37:71پارہ 23 · ص 448

وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ71

ان سے پہلے بھی بہت سے اگلے بہک چکے ہیں.*
____________________
* یعنی یہی گمراہ نہیں ہوئے۔ ان سے پہلے لوگ بھی اکثر گمراہی ہی کےراستے پر چلنے والے تھے۔
37:72پارہ 23 · ص 448

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِمْ مُنْذِرِينَ72

جن میں ہم نے ڈرانے والے (رسول) بھیجے تھے.*
____________________
* یعنی ان سے پہلے لوگوں میں۔ انہوں نے حق کا پیغام پہنچایا اور عدم قبول کی صورت میں انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا، لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا نتیجتاً انہیں تباہ کر دیا گیا، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔
37:73پارہ 23 · ص 448

فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِينَ73

اب تو دیکھ لے کہ جنہیں دھمکایا گیا تھا ان کا انجام کیسا کچھ ہوا.
37:74پارہ 23 · ص 448

إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ74

سوائے اللہ کے برگزیده بندوں کے.*
____________________
* یعنی عبرت ناک انجام سے صرف وہ محفوظ رہے جن کو اللہ نے ایمان وتوحید کی توفیق سے نواز کر بچا لیا۔ مُخْلِصِينَ، وہ لوگ جو عذاب سے بچے رہے، مُنْذَرِينَ (تباہ ہونے والی قوموں) کے اجمالی ذکر کے بعد اب چند مُنْذِرِينَ (پیغمبروں) کاذکر کیا جا رہا ہے۔
37:75پارہ 23 · ص 448

وَلَقَدْ نَادَانَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيبُونَ75

اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں.*
____________________
* یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے باوجود جب قوم کی اکثریت نے ان کی تکذیب ہی کی اور انہوں نے محسوس کر لیا کہ ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے تو اپنے رب کو پکارا«فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» (سورة القمر: 10) ”یا اللہ میں مغلوب ہوں، میری مدد فرما“۔ چنانچہ ہم نے نوح (عليه السلام) کی دعا قبول کی اور ان کی قوم کو طوفان بھیج کر ہلاک کر دیا۔
37:76پارہ 23 · ص 448

وَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ76

ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو* اس زبردست مصیبت سے بچا لیا.
____________________
* أَهْلٌ سے مراد، حضرت نوح (عليه السلام) پر ایمان لانے والے ہیں، جن میں ان کے گھر کے افراد بھی ہیں جو مومن تھے۔ بعض مفسرین نے ان کی کل تعداد 8۔ بتلائی ہے۔ اس میں آپ کی بیوی اور ایک لڑکا شامل نہیں، جو مومن نہیں تھے، وہ بھی طوفان میں غرق ہو گئے۔ کرب عظیم (زبردست مصیبت) سے مراد وہی سیلاب عظیم ہے جس میں یہ قوم غرق ہوئی۔
37:77پارہ 23 · ص 449

وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ77

اور اس کی اوﻻد کو ہم نے باقی رہنے والی بنا دی.*
____________________
* اکثر مفسرین کے قول کے مطابق حضرت نوح (عليه السلام) کے تین بیٹے تھے۔ حام، سام، یافث۔ انہی سے بعد کی نسل انسانی چلی۔ اسی لئے حضرت نوح (عليه السلام) کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے یعنی آدم (عليه السلام) کی طرح، آدم (عليه السلام) کے بعد یہ دوسرے ابوالبشر ہیں۔ سام کی نسل سے عرب، فارس، روم اور یہود ونصاریٰ ہیں۔ حام کی نسل سےسوڈان (مشرق سے مغرب تک) یعنی سندھ، ہند، نوب، زنج، حبشہ قبط اور بربر وغیرہم ہیں اور یافث کی نسل سے صقالبہ، ترک، خزر اور یاجوج ماجوج وغیرہم ہیں۔ (فتح القدیر) وَاللهُ أَعْلَمُ۔
37:78پارہ 23 · ص 449

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ78

اور ہم نے اس کا (ذکر خیر) پچھلوں میں باقی رکھا.*
____________________
* یعنی قیامت تک آنے والے اہل ایمان میں ہم نے نوح (عليه السلام) کا ذکر خیر باقی چھوڑ دیا ہے اور وہ سب نوح (عليه السلام) پر سلام بھیجتے ہیں اور بھیجتے رہیں گے۔
37:79پارہ 23 · ص 449

سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ79

نوح (علیہ السلام) پر تمام جہانوں میں سلام ہو
37:80پارہ 23 · ص 449

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ80

ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.*
____________________
* یعنی جس طرح نوح (عليه السلام) کی دعا قبول کرکے، ان کی ذریت کو باقی رکھ اور پچھلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھ کے ہم نے نوح (عليه السلام) کو عزت وتکریم بخشی۔ اسی طرح جو بھی اپنے اقوال وافعال میں محسن اور اس باب میں راسخ اور معروف ہوگا، اس کے ساتھ بھی ہم ایسا معاملہ کریں گے۔
37:81پارہ 23 · ص 449

إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ81

وه ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھا.
37:82پارہ 23 · ص 449

ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ82

پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا.
37:83پارہ 23 · ص 449

۞ وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ83

اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے.*
____________________
* شِيعَةٌ کے معنی گروہ اور پیروکار کے ہیں۔ یعنی ابراہیم (عليه السلام) بھی اہل دین واہل توحید کے اسی گروہ سے ہیں جن کو نوح (عليه السلام) ہی کی طرح انابت الی اللہ کی توفیق خاص نصیب ہوئی۔
37:84پارہ 23 · ص 449

إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ84

جبکہ اپنے رب کے پاس بے عیب دل ﻻئے.
37:85پارہ 23 · ص 449

إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ85

انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کیا پوج رہے ہو؟
37:86پارہ 23 · ص 449

أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ86

کیا تم اللہ کے سوا گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟*
____________________
* یعنی اپنی طرف سے ہی جھوٹ گھڑ کے کہ یہ معبود ہیں، تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو، دراں حالیکہ یہ پتھر اور مورتیاں ہیں۔
37:87پارہ 23 · ص 449

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ87

تو یہ (بتلاؤ کہ) تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے؟*
____________________
- یعنی اتنی قبیح حرکت کرنے کے باوجودکیا وہ تم پر ناراض نہیں ہوگا اور تمہیں سزا نہیں دے گا۔
37:88پارہ 23 · ص 449

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ88

اب ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک نگاه ستاروں کی طرف اٹھائی.
37:89پارہ 23 · ص 449

فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ89

اور کہا میں تو بیمار ہوں.*
____________________
* آسمان پر غور وفکر کے لئے دیکھا جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یا اپنی قوم کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے ایسا کیا، جو کہ ستاروں کی گردش کو حوادث زمانہ میں موثر مانتے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب ان کی قوم کا وہ دن آیا، جسے وہ باہر جا کر بطور عید اور قومی تہوار منایا کرتی تھی۔ قوم نے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ لیکن ابراہیم (عليه السلام) تنہائی اور موقعے کی تلاش میں تھے، تاکہ ان کے بتوں کا تیاپانچہ کیا جا سکے۔ چنانچہ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ کل ساری قوم باہر میلے میں چلی جائے گی تو میں اپنا منصوبہ بروئے کار لے آؤں گا۔ اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں یا آسمانوں کی گردش بتلاتی ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ یہ بات بالکل جھوٹی تو نہیں تھی، ہر انسان کچھ نہ کچھ بیمار ہوتا ہی ہے، علاوہ ازیں قوم کا شرک حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے دل کا ایک مستقل روگ تھا، جسے دیکھ کر وہ کڑھتے رہتے تھے۔ یوں حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے تعریض اور توریے کا اظہار فرمایا جو اگرچہ جھوٹ نہیں ہوتا لیکن مخاطب اس کے متبادر مفہوم سے مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لئے حدیث ثلاث کذبات میں اسے جھوٹ سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ اس کی ضروری تفصیل سورۂ انبیاء: 63 میں گزر چکی ہے۔
37:90پارہ 23 · ص 449

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ90

اس پر وه سب اس سے منھ موڑے ہوئے واپس چلے گئے.
37:91پارہ 23 · ص 449

فَرَاغَ إِلَىٰ آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ91

آپ (چﭗ چپاتے) ان کے معبودوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے تم کھاتے کیوں نہیں؟*
____________________
* یعنی جو حلویات بطور تبرک وہاں پڑی ہوئی تھیں، وہ انہیں کھانے کے لئے پیش کیں، جو ظاہر بات ہے انہیں نہ کھانی تھیں نہ کھائیں بلکہ وہ جواب دینے پر بھی قادر نہ تھے، اس لئے جواب بھی نہیں دیا۔
37:92پارہ 23 · ص 449

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ92

تمہیں کیا ہو گیا کہ بات تک نہیں کرتے ہو.
37:93پارہ 23 · ص 449

فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ93

پھر تو (پوری قوت کے ساتھ) دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے.*
____________________
* رَاغَ کے معنی ہیں، مَالَ، ذَهَبَ، أَقْبَلَ، یہ سب متقارب المعنی ہیں، ان کی طرف متوجہ ہوئے ضَرْبٌ بِالْيَمِينِ کا مطلب ہے ان کو زور سے مار مار کر توڑ ڈالنا۔
37:94پارہ 23 · ص 449

فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُّونَ94

وه (بت پرست) دوڑے بھاگے آپ کی طرف متوجہ* ہوئے.
____________________
* يَزِفُّونَ، يُسْرِعُونَ، یسرعون کے معنی میں ہے، دوڑتے ہوئے آئے۔ یعنی جب میلے سے آئے تو دیکھا کہ ان کے معبود ٹوٹے پھوٹے پڑے ہیں تو فوراً ان کا ذہن ابراہیم (عليه السلام) کی طرف گیا، کہ یہ کام اسی نے کیا ہوگا، جیسا کہ سورۂ انبیاء میں تفصیل گزر چکی ہے چنانچہ انہیں پکڑ کر عوام کی عدالت میں لے آئے۔ وہاں حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو اس بات کا موقع مل گیا کہ وہ ان پر ان کی بے عقلی اور ان کے معبودوں کی بے اختیاری واضح کریں۔
37:95پارہ 23 · ص 449

قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ95

تو آپ نے فرمایا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں (خود) تم تراشتے ہو.
37:96پارہ 23 · ص 449

وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ96

حاﻻنکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے.*
____________________
* یعنی وہ مورتیاں اور تصویریں بھی جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے اور انہیں معبود سمجھتے ہو، یا مطلق تمہارا عمل جو بھی تم کرتے ہو، ان کا خالق بھی اللہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے، جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے۔
37:97پارہ 23 · ص 449

قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ97

وه کہنے لگے اس کے لئے ایک مکان بناؤ اور اس (دہکتی ہوئی) آگ میں اسے ڈال دو.
37:98پارہ 23 · ص 449

فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ98

انہوں نے تو اس (ابراہیم علیہ السلام) کے ساتھ مکر کرنا چاہا لیکن ہم نے انہی کو نیچا کر دیا.*
____________________
* یعنی آگ کو گلزار بنا کر ان کے مکرو حیلے کو ناکام بنا دیا، پس پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے، اور آزمائش کو عطا میں اور شر کو خیر میں بدل دیتا ہے۔
37:99پارہ 23 · ص 449

وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ99

اور اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے واﻻ ہوں*۔ وه ضرور میری رہنمائی کرے گا.
____________________
* حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا یہ واقعہ بابل (عراق) میں پیش آیا، بالآخر یہاں سے ہجرت کی اور شام چلے گئے اور وہاں جاکر اولاد کے لئےدعا کی۔(فتح القدیر)۔
37:100پارہ 23 · ص 449

رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ100

اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما.
37:101پارہ 23 · ص 449

فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ101

تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی.*
____________________
* حَلِيمٍ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ بچہ بڑا ہو کر بردبار ہوگا۔
37:102پارہ 23 · ص 449

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ102

پھر جب وه (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے*، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے**؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا ﻻئیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے.
____________________
* یعنی دوڑ دھوپ کےلائق ہوگیا یا بلوغت کے قریب پہنچ گیا، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت یہ بچہ 13 سال کا تھا۔
**- پیغمبر کا خواب، وحی اور حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امتثال امر الہٰی کے لئے کس حد تک تیار ہے۔
37:103پارہ 23 · ص 450

فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ103

غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی* کے بل گرا دیا.
____________________
* ہر انسان کے منہ (چہرے) پر دو جبینیں (دائیں اور بائیں) ہوتی ہیں اور درمیان میں پیشانی (جَبْهَةٌ) اس لئے لِلْجَبِينِ کا زیادہ صحیح ترجمہ (کروٹ پر) ہے یعنی اس طرح کروٹ پر لٹا لیا، جس طرح جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ پر لٹایا جاتا ہے۔ (پیشانی یا منہ کے بل لٹانے کاﹿ ترجمہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ مشہور ہے حضرت اسماعیل (عليه السلام) نے وصیت کی کہ انہیں اس طرح لٹایا جائے کہ چہرہ سامنے نہ رہے جس سے پیار وشفقت کا جذبہ امر الہٰی پر غالب آنےکا امکان نہ رہے۔
37:104پارہ 23 · ص 450

وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ104

تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم!
37:105پارہ 23 · ص 450

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ105

یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا*، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں.
____________________
* یعنی دل کےپورےارادے سے بچے کو ذبح کرنے کے لئے زمین پر لٹا دینے سے ہی تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہے، کیونکہ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں تجھے کوئی چیز بھی عزیز تر نہیں ہے، حتیٰ کہ اکلوتا بیٹا بھی۔
37:106پارہ 23 · ص 450

إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ106

درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا.*
____________________
* یعنی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم، یہ ایک بڑی آزمائش تھی جس میں تو سرخرو رہا۔
37:107پارہ 23 · ص 450

وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ107

اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا.*
____________________
* یہ بڑا ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو اللہ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل (عليه السلام) کے ذریعے سے بھیجا۔ (ابن کثیر) اسماعیل (عليه السلام) کی جگہ اسے ذبح کیا گیا اور پھر اس سنت ابراہمی کو قیامت تک قرب الہٰی کے حصول کے لئے ایک ذریعہ اور عیدالاضحیٰ کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دے دیا گیا۔
37:108پارہ 23 · ص 450

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ108

اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا.
37:109پارہ 23 · ص 450

سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ109

ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو.
37:110پارہ 23 · ص 450

كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ110

ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.
37:111پارہ 23 · ص 450

إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ111

بیشک وه ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا.
37:112پارہ 23 · ص 450

وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ112

اور ہم نے اس کو اسحاق (علیہ السلام) نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا.*
____________________
* حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے مذکورہ واقعے کے بعد اب ایک بیٹے اسحاق (عليه السلام) کی اور اس کے نبی ہونے کی خوش خبری دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ اسماعیل (عليه السلام) تھے۔ جو اس وقت ابراہیم (عليه السلام) کے اکلوﺗے بیٹے تھے، اسحاق (عليه السلام) کی ولادت ان کے بعد ہوئی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف ہے کہ ذبیح کون ہے، اسماعیل (عليه السلام) یا اسحاق (عليه السلام) ؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق (عليه السلام) کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل (عليه السلام) کو ذبیح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ امام شوکانی نے اس میں توقف اختیار کیا ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر فتح القدیر اور تفسیر ابن کثیر)۔
37:113پارہ 23 · ص 450

وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰ إِسْحَاقَ ۚ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ113

اور ہم نے ابراہیم واسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں*، اور ان دونوں کی اوﻻد میں بعضے تو نیک بخت ہیں اور بعض اپنے نفس پر صریح ﻇلم کرنے والے ہیں.**
____________________
* یعنی ان دونوں کی اولاد کو بہت پھیلایا اور انبیا ورسل کی زیادہ تعداد انہی کی نسل سے ہوئی۔ حضرت اسحاق (عليه السلام) کے بیٹے یعقوب (عليه السلام) ہوئے، جن کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے 12 قبیلے بنے اور ان سے بنی اسرائیل کی قوم بڑھی اور پھیلی اور اکثر انبیا ان ہی میں سے ہوئے۔ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل (عليه السلام) سے عربوں کی نسل چلی اور ان میں آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ہوئے۔
**- شرک ومعصیت اور ظلم وفساد کا ارتکاب کرکے۔ خاندان ابراہیمی میں برکت کے باوجود نیک وبد کے ذکر سے اس طرف اشارہ کر دیا کہ خاندان اور آبا کی نسبت، اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہاں تو ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہے۔ یہود ونصاریٰ اگرچہ حضرت اسحاق (عليه السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اسی طرح مشرکین عرب حضرت اسماعیل (عليه السلام) کی اولاد سے ہیں۔ لیکن ان کے جو اعمال ہیں وہ کھلی گمراہی یا شرک ومعصیت پر مبنی ہیں۔ اس لئے یہ اونچی نسبتیں ان کے لئے عمل کا بدل نہیں ہو سکتیں۔
37:114پارہ 23 · ص 450

وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ114

یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) پر بڑا احسان کیا.*
____________________
* یعنی انہیں نبوت ورسالت اور دیگر انعامات سے نوازا۔
37:115پارہ 23 · ص 450

وَنَجَّيْنَاهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ115

اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دے دی.*
____________________
* یعنی فرعون کی غلامی اور اس کے ظلم واستبداد سے۔
37:116پارہ 23 · ص 450

وَنَصَرْنَاهُمْ فَكَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ116

اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے.
37:117پارہ 23 · ص 450

وَآتَيْنَاهُمَا الْكِتَابَ الْمُسْتَبِينَ117

اور ہم نے انہیں (واضح اور) روشن کتاب دی.
37:118پارہ 23 · ص 450

وَهَدَيْنَاهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ118

اور انہیں سیدھے راستہ پرقائم رکھا.
37:119پارہ 23 · ص 450

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِي الْآخِرِينَ119

اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات باقی رکھی.
37:120پارہ 23 · ص 450

سَلَامٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ120

کہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر سلام ہو.
37:121پارہ 23 · ص 450

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ121

بے شک ہم نیک لوگوں کو اسی طرح بدلے دیا کرتے ہیں.
37:122پارہ 23 · ص 450

إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ122

یقیناً یہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے.
37:123پارہ 23 · ص 450

وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ123

بے شک الیاس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھے*
____________________
* یہ حضرت ہارون (عليه السلام) کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے۔ یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں اس جگہ کا نام سامرہ ہے جوفلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے۔(بعض کہتے ہیں یہ دیوی کا نام تھا)۔
37:124پارہ 23 · ص 450

إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَلَا تَتَّقُونَ124

جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟*
____________________
* یعنی اس کے عذاب اور گرفت سے، کہ اسے چھوڑ کر تم غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو۔
37:125پارہ 23 · ص 450

أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ125

کیا تم بعل (نامی بت) کو پکارتے ہو؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟
37:126پارہ 23 · ص 450

اللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ126

اللہ جو تمہارا اور تمہارے اگلے تمام باپ دادوں کا رب ہے.*
____________________
* یعنی اس کی عبادت وپرستش کرتے ہو، اس کے نام کی نذر نیاز دیتے اور اس کو حاجت روا سمجھتے ہو، جو پتھر کی مورتی ہے اور جو ہر چیز کا خالق اور اگلوں پچھلوں سب کا رب ہے، اس کو تم نے فراموش کر رکھا ہے۔
37:127پارہ 23 · ص 451

فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ127

لیکن قوم نے انہیں جھٹلایا، پس وه ضرور (عذاب میں) حاضر رکھے* جائیں گے.
____________________
* یعنی توحید وایمان سے انکار کی پاداش میں جہنم کی سزا بھگتیں گے۔
37:128پارہ 23 · ص 451

إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ128

سوائے اللہ تعالی کے مخلص بندوں کے.
37:129پارہ 23 · ص 451

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ129

ہم نے (الیاس علیہ السلام) کا ذکر خیر پچھلوں میں بھی باقی رکھا.
37:130پارہ 23 · ص 451

سَلَامٌ عَلَىٰ إِلْ يَاسِينَ130

کہ الیاس پر سلام ہو.*
____________________
* الیاسین، الیاس (عليه السلام) ہی کا ایک تلفظ ہے، جیسے طور سینا کو طور سینین بھی کہتے ہیں۔ حضرت الیاس (عليه السلام) کو دوسری کتابوں میں (ایلیا) بھی کہا گیا ہے۔
37:131پارہ 23 · ص 451

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ131

ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.*
37:132پارہ 23 · ص 451

إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ132

بیشک وه ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے.*
____________________
* قرآن نے نبیوں اور رسولوں کا ذکر کرکے، ان کے لئے اکثر جگہ پر الفاظ استعمال کیے ہیں کہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سےتھا۔ جس سےدو مقصد ہیں۔ ایک ان کے اخلاق وکردار کی رفعت کا اظہار جو ایمان کا لازمی جز ہے۔ تاکہ ان لوگوں کی تردید ہو جائے جو بہت سے پیغمبروں کے بارے میں اخلاقی کمزوریوں کا اثبات کرتے ہیں، جیسے تورات وانجیل کے موجودہ نسخوں میں متعدد پیغمبروں کے بارے میں ایسے من گھڑت قصے کہانیاں درج ہیں۔ دوسرا مقصد ان لوگوں کی تردید ہے جو بعض انبیا کی شان میں غلو کرکے ان کے اندر الہی صفات واختیارات ثابت کرتے ہیں۔ یعنی وہ پیغمبر ضرور تھے لیکن تھے بہرحال اللہ کے بندے اور اس کے غلام نہ کہ الٰہ یا اس کے جز یا اس کے شریک۔
37:133پارہ 23 · ص 451

وَإِنَّ لُوطًا لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ133

بیشک لوط (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے تھے.
37:134پارہ 23 · ص 451

إِذْ نَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ134

ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی.
37:135پارہ 23 · ص 451

إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ135

بجز اس بڑھیا کے جو پیچھے ره جانے والوں میں سے ره گئی.*
____________________
* اس سے مراد حضرت لوط (عليه السلام) کی بیوی ہے جو کافرہ تھی، یہ اہل ایمان کے ساتھ بستی سے باہر نہیں گئی تھی، کیونکہ اسےاپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہونا تھا، چنانچہ وہ بھی ہلاک کر دی گئی۔
37:136پارہ 23 · ص 451

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ136

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کر دیا.
37:137پارہ 23 · ص 451

وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ137

اور تم تو صبح ہونے پر ان کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو.
37:138پارہ 23 · ص 451

وَبِاللَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ138

اور رات کو بھی، کیا پھر بھی نہیں سمجھتے؟*
____________________
* یہ اہل مکہ سے خطاب ہے جو تجارتی سفر میں ان تباہ شدہ علاقوں سے آتے جاتے، گزرتے تھے۔ ان کو کہا جا رہا ہے کہ تم صبح کے وقت بھی اور رات کے وقت بھی ان بستیوں سےگزرتے ہو، جہاں اب مردار بحیرہ ہے، جو دیکھنے میں بھی نہایت کریہ ہے اور سخت متعفن اور بدبو دار۔ کیا تم انہیں دیکھ کر یہ بات نہیں سمجھتے کہ تکذیب رسل کی وجہ سے ان کا یہ بدانجام ہوا، تو تمہاری اس روش کا انجام بھی اس سے مختلف کیوں کر ہوگا؟ جب تم بھی وہی کام کر رہے ہو، جو انہوں نے کیا تو پھر اللہ کے عذاب سے کیوں کر محفوظ رہو گے؟
37:139پارہ 23 · ص 451

وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ139

اور بلاشبہ یونس (علیہ السلام) نبیوں میں سے تھے.
37:140پارہ 23 · ص 451

إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ140

جب بھاگ کر پہنچے بھری کشتی پر.
37:141پارہ 23 · ص 451

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ141

پھر قرعہ اندازی ہوئی تو یہ مغلوب ہوگئے.
37:142پارہ 23 · ص 451

فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ142

تو پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وه خود اپنے آپ کو ملامت* کرنے لگ گئے.
____________________
* حضرت یونس (عليه السلام) عراق کے علاقے نینوی (موجودہ موصل) میں نبی بنا کر بھیجے گئے تھے، یہ آشوریوں کا پایۂ تخت تھا، انہوں نے ایک لاکھ بنو اسرائیلیوں کو قیدی بنایا ہوا تھا، چنانچہ ان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت یونس (عليه السلام) کو بھیجا، لیکن یہ قوم آپ پر ایمان نہیں لائی۔ بالآخر اپنی قوم کو ڈرایا کہ عنقریب تم عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔ عذاب میں تاخیر ہوئی تو اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنے طور پر وہاں سے نکل گئے اور سمندر پر جا کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ اپنے علاقے سے نکل کر جانے کو ایسے لفظ سے تعبیر کیا جس طرح ایک غلام اپنے آقا سے بھاگ کر چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ بھی اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ کشتی سواروں اور سامانوں سے بھری ہوئی تھی۔ کشتی سمندر کی موجوں میں گھر گئی اور کھڑی ہوگئی۔ چنانچہ اس کا وزن کم کرنے کے لئے ایک آدھ آدمی کو کشتی سے سمندر میں پھینکنے کی تجویزسامنے آئی تاکہ کشتی میں سوار دیگر انسانوں کی جانیں بچ جائیں۔ لیکن یہ قربانی دینے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔ اس لئے قرعہ اندازی کرنی پڑی، جس میں حضرت یونس (عليه السلام) کا نام آیا۔ اور وہ مغلوبین میں سے ہو گئے، یعنی طوعاً وکرھاً اپنے کو بھاگے ہوئے غلام کی طرح سمندر کی موجوں کے سپرد کرنا پڑا۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ثابت نگل لے اور یوں حضرت یونس (عليه السلام) اللہ کے حکم سے مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے۔
37:143پارہ 23 · ص 451

فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ143

پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے.
37:144پارہ 23 · ص 451

لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ144

تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے.*
____________________
* یعنی توبہ واستغفار اور اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتے، جیسا کہ انہوں نے «لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» (الأنبياء: 87) کہا تو قیامت تک وہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔
37:145پارہ 23 · ص 451

۞ فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ145

پس انہیں ہم نے چٹیل میدان میں ڈال دیا اور وه اس وقت بیمار تھے.*
____________________
* جیسے ولادت کے وقت بچہ یا جانور کا چوزہ ہوتا ہے، مضمحل، کمزور اور ناتواں۔
37:146پارہ 23 · ص 451

وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ146

اور ان پر سایہ کرنے واﻻ ایک بیل دار درخت* ہم نے اگا دیا.
____________________
* يَقْطِين ہر اس بیل کو کہتے ہیں جو اپنے تنے پر کھڑی نہیں ہوتی، جیسے لوکی، کدو وغیرہ کی بیل۔ یعنی اس چٹیل میدان میں جہاں کوئی درخت تھا نہ عمارت۔ ایک سایہ دار بیل اگا کر ہم نے ان کی حفاظت فرمائی۔
37:147پارہ 23 · ص 451

وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ147

اور ہم نے انہیں ایک لاکھ بلکہ اور زیاده آدمیوں کی طرف بھیجا.
37:148پارہ 23 · ص 451

فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ148

پس وه ایمان ﻻئے*، اور ہم نے انہیں ایک زمانہ تک عیش وعشرت دی.
____________________
* ان کے ایمان لانے کی کیفیت کا بیان سورۂ یونس 98 میں گزر چکا ہے۔
37:149پارہ 23 · ص 451

فَاسْتَفْتِهِمْ أَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ الْبَنُونَ149

ان سے دریافت کیجئے! کہ کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟
37:150پارہ 23 · ص 451

أَمْ خَلَقْنَا الْمَلَائِكَةَ إِنَاثًا وَهُمْ شَاهِدُونَ150

یا یہ اس وقت موجود تھے جبکہ ہم نے فرشتوں کو مؤنﺚ پیدا کیا.*
____________________
* یعنی فرشتوں کو جویہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں تو کیا جب ہم نےفرشتے پیدا کیے تھے، یہ اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے فرشتوں کے اندر عورتوں والی خصوصیات کا مشاہدہ کیا تھا۔
37:151پارہ 23 · ص 451

أَلَا إِنَّهُمْ مِنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ151

آگاه رہو! کہ یہ لوگ صرف اپنی افترا پردازی سے کہہ رہے ہیں.
37:152پارہ 23 · ص 451

وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ152

کہ اللہ تعالی کی اوﻻد ہے۔ یقیناً یہ محض جھوٹے ہیں.
37:153پارہ 23 · ص 451

أَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِينَ153

کیا اللہ تعالی نے اپنے لیے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی.*
____________________
* جب کہ یہ خود اپنے لئے بیٹیاں نہیں، بیٹے پسند کرتے ہیں۔
37:154پارہ 23 · ص 452

مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ154

تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسے حکم لگاتے پھرتے ہو؟
37:155پارہ 23 · ص 452

أَفَلَا تَذَكَّرُونَ155

کیا تم اس قدر بھی نہیں سمجھتے؟*
____________________
* کہ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو ذکور ہوتی، جس کو تم بھی پسند کرتے اور بہتر سمجھتے ہو، نہ کہ بیٹیاں، جو تمہاری نظروں میں کمتر اور حقیر ہیں۔
37:156پارہ 23 · ص 452

أَمْ لَكُمْ سُلْطَانٌ مُبِينٌ156

یا تمہارے پاس اس کی کوئی صاف دلیل ہے.
37:157پارہ 23 · ص 452

فَأْتُوا بِكِتَابِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ157

تو جاؤ اگر سچے ہو تو اپنی ہی کتاب لے آؤ.*
____________________
* یعنی عقل تو اس عقیدے کی صحت کو تسلیم نہیں کرتی کہ اللہ کی اولاد ہے اور وہ بھی مونث، چلو کوئی نقلی دلیل ہی دکھا دو، کوئی کتاب جو اللہ نے اتاری ہو، اس میں اللہ کی اولاد کا اعتراف یا حوالہ ہو؟
37:158پارہ 23 · ص 452

وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ158

اور ان لوگوں نے تو اللہ کے اور جنات کے درمیان بھی قرابت داری ٹھہرائی* ہے، اور حاﻻنکہ خود جنات کو معلوم ہے کہ وه (اس عقیده کے لوگ عذاب کے سامنے) پیش کیے جائیں گے.**
____________________
* یہ اشارہ ہے مشرکین کے اس عقیدے کی طرف کہ اللہ نےجنات کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کیا، جس سے لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ یہی بنات اللہ، فرشتے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان قرابت داری (سسرالی رشتہ) قائم ہوگیا۔
**- حالانکہ یہ بات کیوں کر صحیح ہو سکتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ جنات کو عذاب میں کیوں ڈالتا؟ کیا وہ اپنی قرابت داری کا لحاظ نہ کرتا؟ اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ خود جنات بھی جانتے ہیں کہ انہیں عقاب وعذاب الٰہی بھگتنے کے لئے ضرور جہنم میں جانا ہوگا، تو پھر اللہ اور جنوں کے درمیان قرابت داری کس طرح ہو سکتی ہے؟
37:159پارہ 23 · ص 452

سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ159

جو کچھ یہ (اللہ کے بارے میں) بیان کر رہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ بالکل پاک ہے.
37:160پارہ 23 · ص 452

إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ160

سوائے! اللہ کے مخلص بندوں کے.*
____________________
* یعنی یہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کہتے جن سے وہ پاک ہے۔ یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جہنم میں جنات اور مشرکین ہی حاضر کیے جائیں گے، اللہ کے مخلص (چنے ہوئے) بندے نہیں۔ ان کے لئے تو اللہ نےجنت تیار کر رکھی ہے۔ اس صورت میں یہ لَمُحْضَرُون سے استثنا ہے اور تسبیح جملہ معترضہ ہے۔
37:161پارہ 23 · ص 452

فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ161

یقین مانو کہ تم سب اور تمہارے معبودان (باطل).
37:162پارہ 23 · ص 452

مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ162

کسی ایک کو بھی بہکا نہیں سکتے.
37:163پارہ 23 · ص 452

إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ163

بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے.*
____________________
* یعنی تم اور تمہارے معبودان باطلہ کسی کو گمراہ کرنے پر قادر نہیں ہیں، سوائے ان کے جو اللہ کے علم میں پہلے ہی جہنمی ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ کفر وشرک پر مصر ہیں۔
37:164پارہ 23 · ص 452

وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ164

(فرشتوں کا قول ہے کہ) ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے.*
____________________
* یعنی اللہ کی عبادت کے لئے۔ یہ فرشتوں کا قول ہے۔
37:165پارہ 23 · ص 452

وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ165

اور ہم تو (بندگیٴ الٰہی میں) صف بستہ کھڑے ہیں.
37:166پارہ 23 · ص 452

وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ166

اور اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں.*
____________________
* مطلب یہ ہے کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے خاص بندے ہیں جو ہر وقت اللہ کی عبادت میں اور اس کی تسبیح وتقدیس میں مصروف رہتے ہیں، نہ کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں۔
37:167پارہ 23 · ص 452

وَإِنْ كَانُوا لَيَقُولُونَ167

کفار تو کہا کرتے تھے.
37:168پارہ 23 · ص 452

لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِنَ الْأَوَّلِينَ168

کہ اگر ہمارے سامنے اگلے لوگوں کا ذکر ہوتا.
37:169پارہ 23 · ص 452

لَكُنَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ169

تو ہم بھی اللہ کے چیده بندے بن جاتے.*
____________________
* ذکر سے مراد کوئی کتاب الٰہی یا پیغمبر ہے۔ یعنی یہ کفار نزول قرآن سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس بھی کوئی آسمانی کتاب ہوتی، جس طرح پہلے لوگوں پر تورات وغیرہ نازل ہوئیں۔ یا کوئی ہادی اور منذر ہمیں وعظ ونصیحت کرنے والا ہوتا، تو ہم بھی اللہ کے خالص بندے بن جاتے۔
37:170پارہ 23 · ص 452

فَكَفَرُوا بِهِ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ170

لیکن پھر اس قرآن کے ساتھ کفر کر گئے*، پس اب عنقریب جان لیں گے.**
____________________
* یعنی ان کی آرزو کے مطابق جب رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ہادی بن کر آگئے، قرآن مجید بھی نازل کر دیا گیا تو ان پر ایمان لانے کے بجائے، ان کا انکار کر دیا۔
**- یہ تہدید و وعید ہے کہ اس تکذیب کا انجام عنقریب ان کو معلوم ہو جائے گا۔
37:171پارہ 23 · ص 452

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ171

اور البتہ ہمارا وعده پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہو چکا ہے.
37:172پارہ 23 · ص 452

إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ172

کہ یقیناً وه ہی مدد کیے جائیں گے.
37:173پارہ 23 · ص 452

وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ173

اور ہمارا ہی لشکر غالب (اور برتر) رہے گا.*
____________________
* جیسے دوسرے مقام پر فرمایا، «كَتَبَ اللَّهُ لأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي» (المجادلة: 21)۔
37:174پارہ 23 · ص 452

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ174

اب آپ کچھ دنوں تک ان سے منھ پھیر لیجئے.*
____________________
* یعنی ان کی باتوں اور ایذاؤں پر صبر کیجئے۔
37:175پارہ 23 · ص 452

وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ175

اور انہیں دیکھتے رہیئے*، اور یہ بھی آگے چل کر دیکھ لیں گے.
____________________
* کہ کب ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے؟
37:176پارہ 23 · ص 452

أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ176

کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟
37:177پارہ 23 · ص 452

فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ177

سنو! جب ہمارا عذاب ان کے میدان میں اتر آئے گا اس وقت ان کی جن کو متنبہ کر دیا گیا تھا* بڑی بری صبح ہوگی.
____________________
* مسلمان جب خیبر پر حملہ کرنے گئے، تو یہودی انہیں دیکھ کر گھبرا گئے، جس پر نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی اللہ اکبر کہہ کر فرمایا تھا ”خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحِةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ“ (صحيح بخاري، كتاب الصلاة، باب ما يذكر في الفخذ، مسلم، كتاب الجهاد باب غزوة خيبر)۔
37:178پارہ 23 · ص 452

وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ178

آپ کچھ وقت تک ان کا خیال چھوڑ دیجئے.
37:179پارہ 23 · ص 452

وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ179

اور دیکھتے رہئیے یہ بھی ابھی ابھی دیکھ لیں گے.*
____________________
* یہ بطور تاکید دوبارہ فرمایا۔ یا پہلے جملے سےمراد دنیا کا وہ عذاب ہے جو اہل مکہ پر بدر واحد اور دیگر جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کے قتل وسلب کی صورت میں آیا۔ اور دوسرے جملے میں اس عذاب کا ذکر ہے جس سے یہ کفار ومشرکین آخرت میں دوچار ہوں گے۔
37:180پارہ 23 · ص 452

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ180

پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں.*
____________________
* اس میں عیوب ونقائص سےاللہ کے پاکیزہ ہونے کا بیان ہےجو مشرکین اللہ کے لئےبیان کرتے ہیں، مثلاً اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے۔ یہ کوتاہیاں بندوں کے اندر ہیں اور اولاد یا شریکوں کے ضرورت مند بھی وہی ہیں، اللہ ان سب باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے۔ کیونکہ وہ کسی کا محتاج ہی نہیں ہے کہ اسے اولادکی یا کسی شریک کی ضرورت پیش آئے۔
37:181پارہ 23 · ص 452

وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ181

پیغمبروں پر سلام ہے.*
____________________
* کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اہل دنیا کی طرف پہنچایا، جس پر یقیناً وہ سلام وتبریک کے مستحق ہیں۔
37:182پارہ 23 · ص 452

وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ182

اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے.*
____________________
* یہ بندوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اورپیغمبروں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچایا، اس لئے تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کو ہلاک کرکےاہل ایمان اور پیغمبروں کو بچایا، اس پر شکر الٰہی کرو۔ حمد کے معنی ہیں بہ قصد تعظیم ثناء جمیل، ذکر خیر اور عظمت شان بیان کرنا۔

سورہ کے آغاز سے چلائیں