سورہ 37 · پارہ 23

سورة الصافات · 37:32

فَأَغْوَيْنَاكُمْ إِنَّا كُنَّا غَاوِينَ

پس ہم نے تمہیں گمراه کیا ہم تو خود بھی گمراه ہی تھے.*
____________________
* یعنی جس بات کی پہلے، انہوں نے نفی کی، کہ ہمارا تم پر کون سا زور تھا کہ تمہیں گمراہ کرتے۔ اب اس کا یہاں اعتراف ہے کہ ہاں واقعی ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا۔ لیکن یہ اعتراف اس تنبیہ کے ساتھ کیا کہ ہمیں اس ضمن میں مورد طعن مت بناؤ، اس لئے کہ ہم خود بھی گمراہ ہی تھے، ہم نے تمہیں بھی اپنے جیسا ہی بنانا چاہا اور تم نے آسانی سے ہماری راہ اپنالی۔ جس طرح شیطان بھی اس روز کہے گا۔ «وَمَا كَانَ لِي عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ» (إبراهيم: 22)۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

32. “So we called you towards deviance and disbelief; we had deviated from the path of guidance, but all you did was that you followed us because of your disposition to incline towards disbelief and deviance.”

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں