سورہ 96 · پارہ 30
سورة العلق · 96:15
كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ
یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے.*
____________________
* یعنی نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کو نماز پڑھنے سے جو روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا لَنَسْفَعَنَّ کے معنی ہیں لَنَأْخُذَنَّ تو ہم اسے اس کی پیشانی سے پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ حدیث میں آتا ہے ابوجہل نے کہا تھا کہ اگر محمد (صلى الله عليه وسلم) کعبے کے پاس نماز پڑھنے سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کروں گا) نبی (صلى الله عليه وسلم) کو یہ بات پہنچی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے۔ (صحيح البخاري، تفسير سورة العلق)۔
____________________
* یعنی نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کو نماز پڑھنے سے جو روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا لَنَسْفَعَنَّ کے معنی ہیں لَنَأْخُذَنَّ تو ہم اسے اس کی پیشانی سے پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ حدیث میں آتا ہے ابوجہل نے کہا تھا کہ اگر محمد (صلى الله عليه وسلم) کعبے کے پاس نماز پڑھنے سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کروں گا) نبی (صلى الله عليه وسلم) کو یہ بات پہنچی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے۔ (صحيح البخاري، تفسير سورة العلق)۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
15. It is not as this ignorant person imagines; if he does not stop causing harm to My servant and rejecting him, I will definitely seize him and drag him violently by the top of his head, towards the hellfire.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں