سورہ 91 · پارہ 30

سورة الشمس · 91:14

فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا

ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں*، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی** اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا.***
____________________
* یہ کام ایک ہی شخص قدار نے کیا تھا۔ لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لئے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا۔ اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی۔ جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی کا ارتکاب کرنے والے اگر چند ایک افراد ہوں لیکن پوری قوم اس برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسےپسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔
** دَمْدَمَ عَلَيْهِمْ، ان کو ہلاک کر دیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔
***- عام کر دیا، یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا، کسی کو نہیں چھوڑا، چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کر دیا گیا۔ یا زمین کو ان پر برابر کر دیا یعنی سب کو تہ خاک کر دیا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

14. But they rejected their Messenger with regards to the camel, and so the most wretched among them killed it with the consent of his people. Therefore, they were all guilty of the crime and so Allah enveloped them into His punishment and destroyed them by a shriek due to their sins. He made them equal in the punishment that He destroyed them with.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں