سورہ 9 · پارہ 11
سورة التوبة · 9:99
وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ ۚ أَلَا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عنداللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں*، یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ کرنا بیشک ان کے لیے موجب قربت ہے، ان کو اللہ تعالیٰ ضرور اپنی رحمت میں داخل کرے گا**۔ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے۔
____________________
* یہ اعراب کی دوسری قسم ہے جن کو اللہ نے شہر سے دور رہنے کے باوجود، اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔ اور اس ایمان کی بدولت ان سے وہ جہالت بھی دور فرما دی جو بددینیت کی وجہ سے اہل بادیہ میں عام طور پر ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردہ مال کو جرمانہ سمجھنے کی بجائے۔ اللہ کے قرب کا اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ اشارہ ہے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے اس طرز عمل کی طرف، جو صدقہ دینے والوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ یعنی آپ ان کے حق میں دعائے خیر فرماتے۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ ایک صدقہ لانے والے کے لئے آپ(صلى الله عليه وسلم) نے دعا فرمائی ”اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی آلِ اَبِیْ اَوْفٰی“ (صحیح بخاری نمبر 4166، صحیح مسلم نمبر 756) ”اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحمت نازل فرما“
**- یہ خوشخبری ہے کہ اللہ کا قرب انہیں حاصل ہے اور اللہ کی رحمت کے وہ مستحق ہیں۔
____________________
* یہ اعراب کی دوسری قسم ہے جن کو اللہ نے شہر سے دور رہنے کے باوجود، اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔ اور اس ایمان کی بدولت ان سے وہ جہالت بھی دور فرما دی جو بددینیت کی وجہ سے اہل بادیہ میں عام طور پر ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردہ مال کو جرمانہ سمجھنے کی بجائے۔ اللہ کے قرب کا اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ اشارہ ہے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے اس طرز عمل کی طرف، جو صدقہ دینے والوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ یعنی آپ ان کے حق میں دعائے خیر فرماتے۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ ایک صدقہ لانے والے کے لئے آپ(صلى الله عليه وسلم) نے دعا فرمائی ”اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی آلِ اَبِیْ اَوْفٰی“ (صحیح بخاری نمبر 4166، صحیح مسلم نمبر 756) ”اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحمت نازل فرما“
**- یہ خوشخبری ہے کہ اللہ کا قرب انہیں حاصل ہے اور اللہ کی رحمت کے وہ مستحق ہیں۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
99. Yet some of those who live in the desert have faith in Allah and the Day of Judgement and they consider any wealth they spend in Allah’s path as a means of gaining closeness to Allah, and of receiving the prayer of the Messenger (peace be upon him) and his asking forgiveness for them. Without doubt, their spending in Allah’s path and the prayer of the Messenger are means of gaining closeness to Allah; and they will find their reward with Allah when He enters them into His mercy, with His forgiveness and His Paradise. Allah is Forgiving and Compassionate towards those of His servants who repent to Him.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں