سورہ 9 · پارہ 10

سورة التوبة · 9:58

وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ

ان میں وه بھی ہیں جو خیراتی مال کی تقسیم کے بارے میں آپ پر عیب رکھتے ہیں*، اگر انہیں اس میں سے مل جائے تو خوش ہیں اور اگر اس میں سے نہ ملا تو فوراً بگڑ کھڑے ہوئے۔**
____________________
* یہ ان کی ایک اور بہت بڑی کوتاہی کا بیان ہے کہ وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی ذات ستودہ صفات کو (نعوذ باللہ) صدقات و غنائم کی تقسیم میں غیر منصف باور کراتے، جس طرح ابن ذی الخویصرہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) ایک مرتبہ تقسیم فرما رہے تھے کہ اس نے کہا "انصاف سے کام لیجئے" آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”افسوس ہے تجھ پر، اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا؟“۔ (صحيح بخاري- كتاب المناقب، باب علامات النبوة صحيح مسلم- كتاب الزكاة باب ذكر الخوارج...)۔
**- گویا اس الزام تراشی کا مقصد محض مالی مفادات کا حصول تھا کہ اس طرح ان سے ڈرتے ہوئے انہیں زیادہ حصہ دیا جائے، یا وہ مستحق ہوں یا نہ ہوں، انہیں حصہ ضرور دیا جائے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

58. Among the hypocrites are those who criticise the Messenger for how he distributes charity. If they are given what they want from it, they are happy with the Messenger; but if he does not give them what they want from it, they start to complain.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں