سورہ 9 · پارہ 10

سورة التوبة · 9:40

إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اگر تم ان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وه دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے*، پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں**، اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند وعزیز تو اللہ کا کلمہ*** ہی ہے، اللہ غالب ہے حکمت واﻻ ہے۔
____________________
* جہاد سے پیچھے رہنے یا اس سے جان چھڑانے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالٰی تمہاری مدد کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی نے اپنے پیغمبر کی مدد اس وقت بھی کی جب اس نے غار میں پناہ لی تھی اور اپنے ساتھی (یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضي الله عنه) سے کہا تھا ”غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے“ اس کی تفصیل حدیث میں آئی ہے۔ ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) سے کہا اگر ان مشرکین نے (جو ہمارے تعاقب میں ہیں) اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو یقینا ہمیں دیکھ لیں گے حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”يَا أَبَا بَكْرٍ! مَا ظَنُّكَ بِاثْنَينَ اللهُ ثَالِثُهُمَا“ (صحيح بخاري- تفسير سورة التوبة) ”اے ابو بکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ کی مدد اور اس کی نصرت جن کو شامل حال ہے“۔
**- یہ مدد کی وہ دو صورتیں بیان فرمائی ہیں جن سے اللہ کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی مدد فرمائی گئی۔ ایک سکینت، دوسری فرشتوں کی تائید۔
***- کافروں کے کلمے سے شرک اور کلمۃ اللہ سے توحید مراد ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے پوچھا گیا کہ ایک شخص بہادری کے جوہر دکھانے کے لئے لڑتا ہے، ایک قبائلی عصبیت و حمیت میں لڑتا ہے، ایک اور ریاکاری کے لئے لڑتا ہے۔ ان میں سے فی سبیل اللہ لڑنے والا کون ہے، آپ نے فرمایا ”جو اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے، وہ فی سبیل اللہ ہے“۔ (صحيح بخاري، كتاب العلم، باب من سأل وهو قائم - عالما جالسا ومسلم، كتاب الإمارة، باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

40. If you O believers, do not help the Messenger (peace be upon him) and respond to his call to strive for the sake of Allah, then Allah has already helped him when you were not with him; when the idolaters drove him away from Mecca with Abū Bakr aṣ-Ṣiddīq (may Allah be pleased with him), and the two of them hid in the cave of Thawr from the disbelievers who were chasing them. On that occasion, the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) told his companion Abū Bakr, who was scared that the idolaters would discover him, not to worry, because Allah was with them, supporting and helping them. Allah sent down His reassurance and tranquility upon the heart of His Messenger, and sent angels which they could not see to support them, making the word of the idolaters the lowest, and the word of Allah the highest by aiding His Religion. Allah is Mighty in His essence, power and force – nothing can overcome Him – and He Wise in His planning, decree and laws.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں

سورة التوبة 9:40 · Tlawati