سورہ 9 · پارہ 10

سورة التوبة · 9:18

إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ

اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔*
____________________
* جس طرح حدیث میں بھی ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: «إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ، فَاشْهَدُوا لَهُ بِالإِيمَانِ» (ترمذي، تفسير سورة التوبة) ”جب تم دیکھو کہ ایک آدمی مسجد میں پابندی سے آتا ہے تو تم اس کے ایمان کی گواہی دو“۔ قرآن کریم میں یہاں بھی ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے بعد جن اعمال کا ذکر کیا گیا ہے، وہ نماز زکٰو ۃ اور خشیت الٰہی ہے، جس سے نماز، زکٰو ۃ اور تقویٰ کی اہمیت واضح ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

18. It is only right that places of worship should be supported and cared for by those who have faith in Allah alone, who do not associate partners with Him, who have faith in the Day of Judgement, who establish the prayer, and give the Zakat from their wealth, and who do not fear anyone except for Allah, glory be to Him. Such people will be guided to the right path, while the idolaters are the farthest away from it.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں