سورہ 9 · پارہ 11
سورة التوبة · 9:128
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں* جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے** جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں*** ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔****
____________________
* سورت کے آخر میں مسلمانوں پر نبی کی صورت میں جو احسان عظیم فرمایا گیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ تمہاری جنس سے یعنی جنس بشریت سے ہیں (وہ نور یا اور کچھ نہیں) جیسا کہ فساد عقیدہ کے شکار لوگ عوام کو اس قسم کے گورکھ دھندے میں پھنساتے ہیں۔
**- عَنَتٌ ایسی چیزیں جن سے انسان کو تکلیف ہو، اس میں دنیاوی مشقتیں اور آخروی عذاب دونوں آجاتے ہیں، اس پیغمبر پر، تمہاری ہر قسم کی تکلیف و مشقت گراں گزرتی ہے۔ اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرما: ”میں آسان دین حنیفی دے کر بھیجا گیا ہوں“۔ (مسند احمد۔ جلد 5، ص 266، جلد 6 ص 233) ایک اور حدیث میں فرمایا: «إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ»، ”بیشک یہ دین آسان ہے“۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الایمان)
***- تمہاری ہدایت اور تمہاری دینوی آخروی کے فائدے کے خواہشمند ہیں اور تمہارا جہنم میں جانا پسند نہیں فرماتے۔ اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”میں تمہیں تمہاری پشتوں سے پکڑ پکڑ کر کھنچتا ہوں لیکن تم مجھ سے دامن چھڑا کر زبردستی نار جہنم میں داخل ہوتے ہو“۔ (صحیح بخاری کتاب الرقاق باب نمبر 26 الانتهاء من المعاصی)
****- یہ آپ کی چوتھی صفت بیان کی گئی ہے۔ یہ ساری خوبیاں آپ کے اعلٰی اخلاق اور کریمانہ صفات کی مظہر ہیں۔ یقینا آپ (صلى الله عليه وسلم) صاحب خلق عظیم ہیں۔
____________________
* سورت کے آخر میں مسلمانوں پر نبی کی صورت میں جو احسان عظیم فرمایا گیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ تمہاری جنس سے یعنی جنس بشریت سے ہیں (وہ نور یا اور کچھ نہیں) جیسا کہ فساد عقیدہ کے شکار لوگ عوام کو اس قسم کے گورکھ دھندے میں پھنساتے ہیں۔
**- عَنَتٌ ایسی چیزیں جن سے انسان کو تکلیف ہو، اس میں دنیاوی مشقتیں اور آخروی عذاب دونوں آجاتے ہیں، اس پیغمبر پر، تمہاری ہر قسم کی تکلیف و مشقت گراں گزرتی ہے۔ اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرما: ”میں آسان دین حنیفی دے کر بھیجا گیا ہوں“۔ (مسند احمد۔ جلد 5، ص 266، جلد 6 ص 233) ایک اور حدیث میں فرمایا: «إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ»، ”بیشک یہ دین آسان ہے“۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الایمان)
***- تمہاری ہدایت اور تمہاری دینوی آخروی کے فائدے کے خواہشمند ہیں اور تمہارا جہنم میں جانا پسند نہیں فرماتے۔ اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”میں تمہیں تمہاری پشتوں سے پکڑ پکڑ کر کھنچتا ہوں لیکن تم مجھ سے دامن چھڑا کر زبردستی نار جہنم میں داخل ہوتے ہو“۔ (صحیح بخاری کتاب الرقاق باب نمبر 26 الانتهاء من المعاصی)
****- یہ آپ کی چوتھی صفت بیان کی گئی ہے۔ یہ ساری خوبیاں آپ کے اعلٰی اخلاق اور کریمانہ صفات کی مظہر ہیں۔ یقینا آپ (صلى الله عليه وسلم) صاحب خلق عظیم ہیں۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
128. There has come to you O Arabs, a messenger from among your own selves and from your lineage, who is an Arab like you. What is difficult for you is difficult for him. He is concerned about you, calling you to have faith in your Lord, and he is kind and compassionate with the believers.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں