سورہ 9 · پارہ 11

سورة التوبة · 9:119

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔*
____________________
* سچائی ہی کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے ان تینوں صحابہ کی غلطی نہ صرف معاف فرما دی بلکہ ان کی توبہ کو قرآن بنا کر نازل فرما دیا۔ رضي الله عنهم ورضوا عنہ۔ اس لئے مومنین کو حکم دیا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ اس کا مطلب یہ ہی کہ جس کے اندر تقوٰی (یعنی اللہ کا خوف) ہوگا، وہ سچا بھی ہوگا اور جو جھوٹا ہوگا، سمجھ لو کہ اس کا دل تقویٰ سے خالی ہے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ مومن سے کچھ اور کوتاہیوں کا صدور تو ہو سکتا ہے لیکن وہ جھوٹا نہیں ہوتا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

119. O you who believe and follow the Messenger, act according to His sacred law, and be mindful of Him, following what He instructs and staying away from what He has prohibited; and be with those who are true in their faith and in what they say and do, as there is no salvation except in truth.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں