سورہ 9 · پارہ 10
سورة التوبة · 9:1
بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے بیزاری کا اعلان ہے*۔ ان مشرکوں کے بارے میں جن سے تم نے عہد وپیمان کیا تھا۔
____________________
* فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه)، حضرت علی (رضي الله عنه) اور دیگر صحابہ کو قرآن کریم کی یہ آیت اور یہ احکام دے کر بھیجا تاکہ وہ مکے میں ان کا عام اعلان کردیں۔ انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کے فرمان کے مطابق اعلان کر دیا کہ کوئی شخص بیت اللہ کا عریاں طواف نہیں کرے گا، بلکہ آئندہ سال سے کسی مشرک کو بیت اللہ کے حج کی ہی اجازت نہیں ہوگی (صحيح بخاري كتاب الصلاة، باب ما يستر من العورة، مسلم كتاب الحج باب لا يحج البيت مشرك)
____________________
* فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه)، حضرت علی (رضي الله عنه) اور دیگر صحابہ کو قرآن کریم کی یہ آیت اور یہ احکام دے کر بھیجا تاکہ وہ مکے میں ان کا عام اعلان کردیں۔ انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کے فرمان کے مطابق اعلان کر دیا کہ کوئی شخص بیت اللہ کا عریاں طواف نہیں کرے گا، بلکہ آئندہ سال سے کسی مشرک کو بیت اللہ کے حج کی ہی اجازت نہیں ہوگی (صحيح بخاري كتاب الصلاة، باب ما يستر من العورة، مسلم كتاب الحج باب لا يحج البيت مشرك)
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
1. This is a declaration of dissociation from Allah and His Messenger and an announcement of the termination of the treaties that you, O Muslims, had made with the idolaters.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں