سورہ 88 · پارہ 30
سورة الغاشية · 88:22
لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ
آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں.*
____________________
* کہ انہیں ایمان لانے پر مجبور کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت سے قبل کا حکم ہے جو آیت سیف سے منسوخ ہو گیا، کیوں کہ اس کے بعد نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ ”أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللهُ فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا؛ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ“۔ (صحيح بخاري، باب وجوب الزكاة مسلم كتاب الإيمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا...) ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں۔ جب وہ یہ اقرار کر لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خونوں اور مالوں کو بچا لیا۔ سوائے حق اسلام کے، ( جو اگر ہمارے علم میں نہ آیا تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے“۔
____________________
* کہ انہیں ایمان لانے پر مجبور کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت سے قبل کا حکم ہے جو آیت سیف سے منسوخ ہو گیا، کیوں کہ اس کے بعد نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ ”أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللهُ فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا؛ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ“۔ (صحيح بخاري، باب وجوب الزكاة مسلم كتاب الإيمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا...) ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں۔ جب وہ یہ اقرار کر لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خونوں اور مالوں کو بچا لیا۔ سوائے حق اسلام کے، ( جو اگر ہمارے علم میں نہ آیا تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے“۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
22. You have not been given control over them so that you can compel them to have faith.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں