سورہ 88 · پارہ 30

سورة الغاشية · 88:17

أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ

کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وه کس طرح پیدا کیے گئے ہیں.*
____________________
* اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہی تھی، اس لئے اللہ نے اسی کا ذکر کر کے فرمایا کہ اس کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا ہے اور کتنی قوت وطاقت اس کے اندر رکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے لئے نرم اور تابع ہے، تم اس پر جتنا چاہو بوجھ لاد دو، وہ انکار نہیں کرے گا، تمہارا ماتحت ہو کر رہے گا۔ علاوہ ازیں اس کا گوشت تمہارے کھانے کے، اس کا دودھ تمہارے پینے کے اور اس کی اون، گرمی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

17. After Allah mentioned the disparity between the states of the wretched and the fortunate in the afterlife, He directed the sight of the disbelievers to what will show them the power of the Creator and the beauty of His creation, so that they can use this as evidence for faith in order to enter Paradise and become of the fortunate, by saying: Do they not look with reflection at the camels, how Allah created them and subjugated them to human beings?!

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں