سورہ 82 · پارہ 30
سورة الإنفطار · 82:19
يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا ۖ وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ
(وه ہے) جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لئے کسی چیز کا مختار نہ ہوگا، اور (تمام تر) احکام اس روز اللہ کے ہی ہوں گے.*
____________________
* یعنی دنیا میں تو اللہ نے عارضی طور پر، آزمانے کے لئے، انسانوں کو کم وبیش کے کچھ فرق کے ساتھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ لیکن قیامت والےدن تمام اختیارات کلیتاً صرف اور صرف اللہ کےپاس ہوں گے۔ جیسے فرمایا لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ۔ ( سورۂ مؤمن:16 ) چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ (رضی الله عنها) اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ (رضی الله عنها) کو فرما دیا تھا، ”لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا“ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان) اور بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو بھی متنبہ فرما دیا، ”أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَاللهِ لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا“ (مسلم، كتاب مذكور، بخاري، سورة الشعراء ) ۔
____________________
* یعنی دنیا میں تو اللہ نے عارضی طور پر، آزمانے کے لئے، انسانوں کو کم وبیش کے کچھ فرق کے ساتھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ لیکن قیامت والےدن تمام اختیارات کلیتاً صرف اور صرف اللہ کےپاس ہوں گے۔ جیسے فرمایا لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ۔ ( سورۂ مؤمن:16 ) چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ (رضی الله عنها) اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ (رضی الله عنها) کو فرما دیا تھا، ”لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا“ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان) اور بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو بھی متنبہ فرما دیا، ”أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَاللهِ لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا“ (مسلم، كتاب مذكور، بخاري، سورة الشعراء ) ۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
19. A day when no one will be able to benefit anyone. The entire matter on that day will belong to Allah alone, to deal as He wishes, and not to anyone besides Him.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں