سورہ 8 · پارہ 10

سورة الأنفال · 8:73

وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ

کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں فتنہ ہوگا اور زبردست فساد ہو جائے گا۔*
____________________
* یعنی جس طرح کافر ایک دوسرے کے دوست اور حمایتی ہیں اسی طرح اگر تم بھی ایمان کی بنیاد پر ایک دوسرے کی حمایت اور کافروں سے عدم موالات نہ کی، تو پھر بڑا فتنہ اور فساد ہوگا۔ اور وہ یہ کہ مومن اور کافر کے باہمی اختلاط اور محبت وموالات سےدین کے معاملے میں اشتباہ اور مداہنت پیدا ہوگی۔ بعض نے ”بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ“ سے، وارث ہونا مراد لیا ہے ۔ یعنی کافر ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کسی کافر کا اور کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہے۔ جیسا کہ احادیث میں اسے وضاحت سے بیان کر دیا گیا ہے۔ اگر تم وراثت میں کفر وایمان کو نظر انداز کرکے محض قرابت کو سامنے رکھو گے تو اس سے بڑا فتنہ اور فساد پیدا ہوگا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

73. The disbelievers are united in their disbelief and they therefore become friends of one another. A believer should not become friends with them. If you do not become friends with the believers and oppose the disbelievers, the believers will suffer weakness as a result of a lack of support and there will be great corruption on earth as people will be prevented from Allah’s path.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں