سورہ 8 · پارہ 10
سورة الأنفال · 8:70
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَىٰ إِنْ يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِمَّا أُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
اے نبی! اپنے ہاتھ تلے کے قیدیوں سے کہہ دو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں نیک نیتی دیکھے گا* تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے گا** اور پھر گناه بھی معاف فرمائے گا اور اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے ہی۔
____________________
* یعنی ایمان واسلام لانے کی نیت اور اسے قبول کرنے کا جذبہ۔
**- یعنی جو فدیہ تم سے لیا گیا ہے، اس سے بہتر تمہیں اللہ تعالیٰ قبول اسلام کے بعد عطا فرما دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، حضرت عباس (رضي الله عنه) وغیرہ جو ان قیدیوں میں تھے، مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد اللہ نے انہیں دنیوی مال ودولت سے بھی خوب نوازا۔
____________________
* یعنی ایمان واسلام لانے کی نیت اور اسے قبول کرنے کا جذبہ۔
**- یعنی جو فدیہ تم سے لیا گیا ہے، اس سے بہتر تمہیں اللہ تعالیٰ قبول اسلام کے بعد عطا فرما دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، حضرت عباس (رضي الله عنه) وغیرہ جو ان قیدیوں میں تھے، مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد اللہ نے انہیں دنیوی مال ودولت سے بھی خوب نوازا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
70. O Prophet, say to those idolater captives who have come into your hands after the Battle of Badr: If Allah knows of any good intentions in your hearts, He will give you something better than the ransom that was taken from you; so do not grieve over what was taken from you. Allah will also forgive your sins because He is Forgiving and Compassionate to those of His servants who repent to Him. This promise of Allah was fullfilled for ‘Abbās, the uncle of the Prophet (peace be upon him), and for others like him who accepted Islam after being captured.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں