سورہ 8 · پارہ 10

سورة الأنفال · 8:50

وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا ۙ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ

کاش کہ تو دیکھتا جب کہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں ان کے منھ پر اور سرینوں پر مار مارتے ہیں (اور کہتے ہیں) تم جلنے کا عذاب چکھو۔*
____________________
* بعض مفسرین نے اس جنگ بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کی بابت قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکین مسلمانوں کی طرف آتے تو مسلمان ان کے چہروں پر تلواریں مارتے، جس سے بچنے کے لئے وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے تو فرشتے ان کی دبروں پر تلواریں مارتے۔ لیکن یہ آیت عام ہے جو ہر کافر ومشرک کو شامل ہے اور مطلب یہ ہے کہ موت کے وقت فرشتے ان کے مونہوں اور پشتوں (یا دبروں یعنی چوتڑوں) پر مارتے ہیں، جس طرح سورۂ انعام میں بھی فرمایا گیا ہے: ”وَالْمَلائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ“ (آیت: 93) فرشتے ان کو مارنے کے لئے ہاتھ دراز کرتے ہیں اور بعض کے نزدیک فرشتوں کی یہ مار قیامت والے دن جہنم کی طرف لے جاتے ہوئے ہوگی اور داروغئہ جہنم کہے گا ”تم جلنے کا عذاب چکھو“۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

50. If only you, O Messenger, could see those who disbelieve in Allah and His messengers at the time when the angels remove their souls, striking their faces when they face towards them and striking their backs when they try to run away, and saying to them: Taste, O disbelievers, the burning punishment! If you had to see that, you would see a serious heart-wrenching sight.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں