سورہ 7 · پارہ 9

سورة الأعراف · 7:91

فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ

پس ان کو زلزلے نے آپکڑا سو وه اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے ره گئے۔*
____________________
* یہاں رَجْفَة زلزلہ کا لفظ آیا ہے اور سورۂ ہود آیت ٩٤ میں صَيْحَةٌ ( چیخ ) کا لفظ ہے اور سورۂ شعراء ۔ ١٨٩ میں ظُلَّةٌ (بادل کا سایہ) کے الفاظ ہیں ۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ عذاب میں ساری ہی چیزو ں کا اجتماع ہوا ۔ یعنی سائے والے دن ان پر عذاب آیا۔ پہلے بادل نے ان پر سایہ کیا جس میں شعلے، چنگاریاں اور آگ کے بھبھوکے تھے، پھر آسمان سے سخت چیخ آئی اور زمین سے بھونچال، جس سے ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور بےجان لاشے ہوکر پرندوں کی طرح گھٹنوں میں منہ دے کر اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے ۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

91. So a great earthquake took them; and in the morning they were dead in their homes, fallen on their knees and faces.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں