سورہ 7 · پارہ 9

سورة الأعراف · 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ

آپ درگزر کو اختیار کریں* نیک کام کی تعلیم دیں** اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں۔***
____________________
* بعض علماء نے اس کے معنی کیے ہیں ”خُذْ مَا عَفَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ أَيْ: مَا فَضَلَ“ یعنی ”جو ضرورت سے زائد مال ہو، وہ لے لو“ اور یہ زکوٰۂ کی فرضیت سے قبل کا حکم ہے۔ ( فتح الباري، جلد 8، ص 305) لیکن دوسرے مفسرین نے اس سے اخلاقی ہدایت یعنی عفو و درگزر مراد لیا ہے اور امام ابن جریر اور امام بخاری وغیرہ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ چنانچہ امام بخاری نے اس کی تفسیر میں حضرت عمر (رضي الله عنه)، کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن حضرت عمر (رضي الله عنه)، کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر ان پر تنقید کرنے لگے کہ آپ ہمیں نہ پوری عطا دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہیں جس پر حضرت عمر (رضي الله عنه) غضب ناک ہوئے، یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر (رضي الله عنه)، کے مشیر حر بن قیس نے (جو عیینہ کے بھیتجے تھے) حضرت عمر س، سے کہا کہ ”اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی (صلى الله عليه وسلم) کو حکم فرمایا تھا۔ «خُذِ ٱلۡعَفۡوَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡعُرۡفِ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَٰهِلِينَ» [الأعراف: 199]. ”درگزر کو اختیار کیجئے اور نیکی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے اعراض کیجئے“۔ اور یہ بھی جاہلوں میں سے ہے“۔ جس پر حضرت عمر (رضي الله عنه)، نے درگزر فرما دیا۔ ”وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللهِ“ اور حضرت عمر (رضي الله عنه) اللہ کی کتاب کا حکم سن کر فوراً گردن خم کر دینے والے تھے۔ (صحيح بخاري - تفسير سورة الأعراف ) اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ظلم کے مقابلے میں معاف کر دینے، قطع رحمی کے مقابلے میں صلۂ رحمی اور برائی کے بدلے احسان کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔
**- ”عُرْفٌ“ سے مراد معروف یعنی نیکی ہے ۔
***- یعنی جب آپ نیکی کا حکم دینے میں اتمام حجت کر چکیں اور پھر بھی وہ نہ مانیں تو ان سے اعراض فرما لیں اور ان کے جھگڑوں اور حماقتوں کا جواب نہ دیں ۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

199. Accept from people O Messenger what they are able to do, the actions and conduct that is easy for them, and do not require them to do things that are too difficult for them, because that will drive them away. Instruct them to speak in a beautiful way and to do good actions, and turn away from those who are foolish and do not face them in their ignorance, returning like for like. Whoever harms you, do not harm them; and whoever denies you something, do not deny them.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں