سورہ 7 · پارہ 9

سورة الأعراف · 7:164

وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے واﻻ ہے یا ان کو سخت سزا دینے واﻻ ہے؟* انہو ں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لیے اور اس لیے کہ شاید یہ ڈر جائیں۔
____________________
* اس جماعت سے صالحین کی وہ جماعت مراد ہے جو اس حیلے کا ارتکاب بھی نہیں کرتی تھی اور حیلہ گروں کو سمجھا سمجھا کر ان کی اصلاح سے مایوس بھی ہوگئی تھی ۔ تاہم کچھ اور لوگ بھی سمجھانے والے تھے جو انہیں وعظ ونصیحت کرتے تھے ۔ صالحین کی یہ جماعت انہیں یہ کہتی کہ ایسے لوگوں کو وعظ ونصیحت کا کیا فائدہ جن کی قسمت میں ہلاکت وعذاب الٰہی ہے ۔ یا اس جماعت سے وہی نافرمان اور تجاوز کرنے والے مراد ہیں، جب ان کو وعظ کرنے والے نصیحت کرتے تو یہ کہتے کہ جب تمہارے خیال میں ہلاکت یا عذاب الٰہی ہمارا مقدر ہے تو پھر ہمیں کیوں وعظ کرتے ہو؟ تو وہ جواب دیتے کہ ایک تو اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کرنے کے لیے تاکہ ہم تو اللہ کی گرفت سے محفوظ رہیں۔ کیونکہ معصیت الٰہی کا ارتکاب ہوتے ہوئے دیکھنا اور پھر اسے روکنے کی کوشش نہ کرنا بھی جرم ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کی گرفت ہوسکتی ہے۔ اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ شاید یہ لوگ حکم الٰہی سے تجاوز کرنے سے باز ہی آجائیں ۔ پہلی تفسیر کی رو سے یہ تین جماعتیں ہوئیں ۔ (1) ۔ نافرمان اور شکار کرنے والی جماعت (2) ۔ وہ جماعت جو بالکل کنارہ کش ہوگئی، نہ وہ نافرمانوں میں تھی نہ منع کرنے والوں میں (3) ۔ وہ جماعت جو نافرمان بھی نہیں تھی۔ اور بالکل کنارہ کش بھی نہیں ہوئی تھی ۔ بلکہ نافرمانوں کو منع کرتی تھی۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ دو جماعتیں ہوں گی ۔ ایک نافرمانوں کی اور دوسری منع کرنے والوں کی۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

164. Mention, O Messenger, when a group among them forbade them from doing what was wrong, cautioning them against it. Another group remarked: 'Why are you advising those whom Allah is going to destroy in this world because of their disobedience, or punish with a firm punishment on the Day of Judgement?' Those advising replied: 'This advising of ours is to be free from blame before Allah, through doing what He commanded us to do of instructing what is right and forbidding what is wrong, so that He would not take us to account for not doing so; and, perhaps, those we advise might benefit from the advice, and give up their disobedience.'

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں