سورہ 7 · پارہ 9
سورة الأعراف · 7:112
يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ
کہ وه سب ماہر جادو گروں کو آپ کے پاس ﻻ کر حاضر کر دیں۔*
____________________
* حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے زمانے میں جادوگری کو بڑا عروج حاصل تھا ۔ اسی لیے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے پیش کردہ معجزات کو بھی انہوں نے جادو سمجھا اور جادو کے ذریعے سے اس کا توڑ مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا ”اے موسیٰ! (عليه السلام) کیا تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہماری زمین سے نکال دے؟، پس ہم بھی اس جیسا جادو تیرے مقابلے میں لائیں گے، اس کے لیے کسی ہموار جگہ اور وقت کا ہم تعین کرلیں جس کی دونوں پابندی کریں، حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے کہا کہ نو روز کا دن اور چاشت کا وقت ہے، اس حساب سے لوگ جمع ہوجائیں“۔ (سورہ طٰہ: 57۔59)
____________________
* حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے زمانے میں جادوگری کو بڑا عروج حاصل تھا ۔ اسی لیے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے پیش کردہ معجزات کو بھی انہوں نے جادو سمجھا اور جادو کے ذریعے سے اس کا توڑ مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا ”اے موسیٰ! (عليه السلام) کیا تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہماری زمین سے نکال دے؟، پس ہم بھی اس جیسا جادو تیرے مقابلے میں لائیں گے، اس کے لیے کسی ہموار جگہ اور وقت کا ہم تعین کرلیں جس کی دونوں پابندی کریں، حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے کہا کہ نو روز کا دن اور چاشت کا وقت ہے، اس حساب سے لوگ جمع ہوجائیں“۔ (سورہ طٰہ: 57۔59)
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
112. 'They will bring to you every skillful and powerful magician.'
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں