سورہ 7 · پارہ 9

سورة الأعراف · 7:105

حَقِيقٌ عَلَىٰ أَنْ لَا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ

میرے لیے یہی شایان ہے کہ بجز سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں، میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی ﻻیا ہوں*، سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔**
____________________
* جو اس بات کی دلیل ہے کہ میں واقعی اللہ کی طرف سے مقرر کردہ رسول ہوں ۔ اس معجزے اور بڑی دلیل کی تفصیل بھی آگے آرہی ہے ۔
**- بنی اسرائیل، جن کا اصل مسکن شام کا علاقہ تھا، حضرت یوسف (عليه السلام) کے زمانے میں مصر چلے گئے تھے اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ فرعون نے ان کو غلام بنا لیا تھا اور ان پر طرح طرح کے مظالم کرتا تھا، جس کی تفصیل پہلے سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ فرعون اور اس کے درباری امراء نے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا تو حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے فرعون سے یہ دوسرا مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردے تاکہ یہ اپنے آبائی مسکن میں جا کر عزت و احترام کی زندی گزاریں اور اللہ کی عبادت کریں۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

105. Moses said: 'Since I have been sent from Allah it is only appropriate for me to say the truth about Him. I have brought you a clear proof showing the truth of what I say, proving that I am sent from Allah to you. Release the Children of Israel from the slavery and miserable treatment they have suffered and let them leave with me.'

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں