سورہ 69 · پارہ 29

سورة الحاقة · 69:17

وَالْمَلَكُ عَلَىٰ أَرْجَائِهَا ۚ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ

اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے*، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے.**
____________________
* یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہو جائے گا پھر فرشتے کہاں ہونگے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آجائیں گے تو گویا فرشتے دنیا کے کنارے پرہوں گے، یا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ آسمان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر مختلف ٹکروں میں ہوگا تو ان ٹکڑوں پر جو زمین کے کناروں میں اور بجائے خود ثابت ہوں گے۔(فتح القدیر)
**- یعنی ان مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہو گا، یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالٰی نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

17. The angels will be on its edges and corners. Eight elite angels will carry the throne of your Lord on that great day.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں