سورہ 67 · پارہ 29
سورة الملك · 67:8
تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ
قریب ہے کہ (ابھی) غصے کے مارے پھٹ جائے*، جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟**
____________________
* یا مارے غیظ وغضب کے اس کے حصے ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے یہ جہنم کافروں کو دیکھ کر غضب ناک ہوگی جس کا شعور اللہ تعالٰی اس کے اندر پیدا فرما دے گا اللہ تعالٰی کے لیے جہنم کے اندر یہ ادراک وشعور پیدا کر دینا کوئی مشکل نہیں۔
____________________
* یا مارے غیظ وغضب کے اس کے حصے ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے یہ جہنم کافروں کو دیکھ کر غضب ناک ہوگی جس کا شعور اللہ تعالٰی اس کے اندر پیدا فرما دے گا اللہ تعالٰی کے لیے جہنم کے اندر یہ ادراک وشعور پیدا کر دینا کوئی مشکل نہیں۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
8. It almost bursts within itself and comes apart due to its extreme rage over those that are thrown into it. Each time a group is thrown into it from the disbelievers, the angels appointed over it will ask them scoldingly: “Did a Messenger not come to you in the world, warning you of the punishment of Allah?”
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں