سورہ 67 · پارہ 29

سورة الملك · 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ

کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا* اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے** تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو.***
____________________
* یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔
**- جن سے تم سن سکو اور اللہ کی مخلوق میں غوروفکر کرکے اللہ کی معرفت حاصل کر سکو تین قوتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے انسان مسموعات، مبصرات اور معقولات کا ادراک کرسکتا ہے یہ ایک طرح سے اتمام حجت بھی ہے اور اللہ کی ان نعمتوں پر شکر نہ کرنے کی مذمت بھی اسی لیے آگے فرمایا تم بہت ہی کم شکرگزاری کرتے ہو۔
***- یعنی شُکْرًا قَلِیْلًا یا زَمْنً قَلِیلًا یا قلت شکر سے مراد ان کی طرف سے شکر کا عدم وجود ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

23. O Messenger! Say to these idolaters who reject: “Allah is the one who created you and made for you ears through which you hear, eyes with which you see, and hearts through which you think. Little do you show gratitude to Him for the blessings He has conferred upon you.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں