سورہ 65 · پارہ 28

سورة الطلاق · 65:7

لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ ۖ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا

کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہئے* اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو** اسے چاہئے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے***، اللہ تنگی کے بعد آسانی وفراغت بھی کر دے گا.****
____________________
* یعنی دودھ پلانے والی عورتوں کو اجرت اپنی طاقت کے مطابق دی جائے اگر اللہ نے مال و دولت میں فراخی عطا فرمائی ہے تو اسی فراخی کے ساتھ مرضعہ کی خدمت ضروری ہے۔
**- یعنی مالی لحاظ سے وہ کمزور ہو۔
***- اس لیے وہ غریب اور کمزور کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ دودھ پلانے والی کو زیادہ اجرت ہی دے۔ مطلب ان ہدایت کا یہ ہے کہ بچے کی ماں اور بچے کا باپ دونوں ایسا مناسب رویہ اختیار کریں کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے اور بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ سنگین نہ ہو۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا :«لا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ» (البقرة: 233) ”نہ ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف پہنچائی جائے اور نہ باپ کو“۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

7. Whoever has abundance in wealth should spend well on the wife he has divorced and upon his child; and whoever is financially restricted should spend according to what Allah has given him. Allah does not burden any soul except with what He has provided it with, never does He burden them with more than that or more than the strength it holds. Allah will soon create abundance and independence after his difficult state.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں