سورہ 58 · پارہ 28

سورة المجادلة · 58:12

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

اے مسلمانو! جب تم رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو* یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزه تر ہے**، ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
____________________
* ہر مسلمان نبی سے مناجات اور خلوت میں گفتگو کرنے کی خواہش رکھتا تھا، جس سے نبی (صلى الله عليه وسلم) کو خاصی تکلیف ہوتی۔ بعض کہتے ہیں کہ منافقین یوں ہی بلا وجہ نبی (صلى الله عليه وسلم) سے مناجات میں مصروف رہتے تھے، جس سے مسلمان تکلیف محسوس کرتے تھے، اس لیے اللہ نے یہ حکم نازل فرما دیا، تاکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے گفتگو کرنے کے رجحان عام کی حوصلہ شکنی ہو۔
**- بہتر اس لیے کہ صدقے سے تمہارے ہی دوسرے غریب مسلمان بھائیوں کو فائدہ ہوگا اور پاکیزہ تر اس لیے کہ یہ ایک عمل صالح اور اطاعت الٰہی ہے جس سے نفوس انسانی کی تطہیر ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ امر بطور استحباب کے تھا، وجوب کے لیے نہیں۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

12. O those who have faith in Allah and act upon what He has legislated for them! When you intend to talk privately with the Messenger, give some charity before you talk in private with him. That giving in charity will be better and purer for you because of being an act of obedience to Allah that purifies the hearts. But if you do not find anything you can give in charity, there is no harm in you talking in private with him, because Allah Forgiving of the sins of His servants and He is merciful towards them by not burdening them except with what they are capable of.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں