سورہ 52 · پارہ 27
سورة الطور · 52:30
أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ
کیا کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانے کے حوادث (یعنی موت) کا انتظار کر رہے ہیں.*
____________________
* رَيْبٌ کے معنی ہیں حوادث، مَنُونٌ، موت کےناموں میں سے ایک نام ہے۔ مطلب ہے کہ قریش مکہ اس انتظار میں ہیں کہ زمانے کےحوادث سے شاید اس محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو موت آ جائے اور ہمیں چین نصیب ہو جائے، جو اس کی دعوت توحید نے ہم سے چھین لیاہے۔
____________________
* رَيْبٌ کے معنی ہیں حوادث، مَنُونٌ، موت کےناموں میں سے ایک نام ہے۔ مطلب ہے کہ قریش مکہ اس انتظار میں ہیں کہ زمانے کےحوادث سے شاید اس محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو موت آ جائے اور ہمیں چین نصیب ہو جائے، جو اس کی دعوت توحید نے ہم سے چھین لیاہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
30. Do these idolaters say: “Muhammad is not a messenger, but he is a poet whom we await death to seize so we can be relieved of him”?
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں