سورہ 50 · پارہ 26

سورة ق · 50:30

يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ

جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وه جواب دے گی کیا کچھ اور زیاده بھی ہے؟*
____________________
* اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «لأَمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (الم السجدة:1 3) ”میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھردوں گا“۔ اس وعدے کا جب ایفا ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کافر جن وانس کو جہنم میں ڈال دے گا، تو جہنم سےپوچھے گا کہ تو بھر گئی ہےیا نہیں؟ وہ جواب دے گی، کیا کچھ اور بھی ہے؟ یعنی اگرچہ میں بھر گئی ہوں لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لئے میرے دامن میں اب بھی گنجائش ہے، جہنم سے اللہ تعالیٰ کی یہ گفتگو اور جہنم کا جواب دینا، اللہ کی قدرت سے قطعاً بعید نہیں ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے ”آگ میں لوگ ڈالے جائیں گے اور جہنم کہے گی: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ کیا کچھ اور بھی ہیں؟ (حتی کہ اللہ تعالیٰ جہنم میں اپنا پیر رکھ دے گا، جس سے جہنم پکار اٹھے گی، قَطْ قَطْ یعنی بس، بس“ (صحیح بخاری، تفسیر سورۂ ق) اور جنت کے بارے میں آتا ہے کہ جنت میں ابھی خالی جگہ باقی رہ جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسکے لئے نئی مخلوق پیدا فرمائے گا جو وہاں آباد ہوگی۔ (صحيح مسلم كتاب الجنة، باب النار يدخلها الجبارون، والجنة يدخلها الضعفاء)۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

30. On the Day I will say to Hell, “Have you been filled?” and it will say, “Are there some more,” On the day I will say to hell, “Are you full with all the disbelievers and sinners that have been thrown into you?” It will reply to its Lord, saying, “Is there any more?” asking for more, angry for its Lord.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں