سورہ 5 · پارہ 6

سورة المائدة · 5:77

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ

کہہ دیجیئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو* اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے** ہیں اور سیدھی راه سے ہٹ گئے ہیں۔
____________________
* یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جن کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے، اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو، جیسے حضرت مسیح (عليه السلام) کے معاملے میں تم نے کیا۔ غلو ہر دور میں شرک اور گمراہی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ انسان کو جس سے عقیدت ومحبت ہوتی ہے، وہ اس کی شان میں خوب مبالغہ کرتا ہے۔ وہ امام اور دینی قائد ہے تو اس کو پیغمبر کی طرح معصوم سمجھنا اور پیغمبر کو خدائی صفات سے متصف ماننا عام بات ہے، بدقسمتی سے مسلمان بھی اس غلو سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ ا نہوں نے بعض ائمہ کی شان میں بھی غلو کیا اور ان کی رائے اور قول، حتیٰ کہ ان کی طرف منسوب فتویٰ اور فقہ کو بھی حدیث رسول (صلى الله عليه وسلم) کے مقابلے میں ترجیح دے دی۔
**- یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت لگو، جو ایک نبی کو الٰہ بنا کر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

77. Say, O Messenger, to the Christians: Do not overstep the boundaries of the instruction you were given to follow the truth. Do not be excessive in reverence of those whom you were instructed to revere, such as prophets, regarding them to be divine as you have done with respect to Jesus, son of Mary. You did this because of following your predecessors who were astray, who led many other people astray and who were far from the path of truth.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں