سورہ 5 · پارہ 6

سورة المائدة · 5:32

مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے واﻻ ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا* اور ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول ﻇاہر دلیلیں لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر لوگ زمین میں ﻇلم و زیادتی اور زبردستی کرنے والے ہی رہے۔**
____________________
* اس قتل ناحق کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی قدر وقیمت کو واضح کرنے کے لئے بنو اسرائیل پر یہ حکم نازل فرمایا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کے ہاں انسانی خون کی کتنی اہمیت اور تکریم ہے اور یہ اصول صرف بنی اسرائیل ہی کے لئے نہیں تھا، اسلام کی تعلیمات کے مطابق بھی یہ اصول ہمیشہ کے لئے ہے۔ سلیمان بن ربعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بصری سے پوچھا یہ آیت ہمارے لئے بھی ہے جس طرح بنو اسرائیل کے لئے تھی؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بنواسرائیل کے خون اللہ کے ہاں ہمارے خونوں سے زیادہ قابل احترام نہیں تھے“ (تفسیر ابن کثیر)
**- اس میں یہود کو زجروتوبیخ ہے کہ ان کے پاس انبیاء دلائل وبراہین لے کر آتے رہے۔ لیکن ان کا رویہ ہمیشہ حد سے تجاوز کرنے والا ہی رہا۔ اس میں گویا نبی (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ آپ کو قتل کرنے اور نقصان پہنچانے کی جو سازشیں کرتے رہتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ان کی ساری تاریخ ہی مکروفساد سے بھری ہوئی ہے۔ آپ بہرحال اللہ پر بھروسہ رکھیں جو خیر الماکرین ہے۔ تمام سازشوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

32. Due to Cain’s murder of his brother, I informed the Israelites that any person who kills another person for no valid reason – such as legal retribution or as punishment for causing corruption in the land by treason or waging war – it is as if he has killed all people, since he did not make a distinction between an innocent and a guilty person. Whoever refrains from killing a person whose soul I have made sacred, and regards it to be forbidden to kill such a person, it is as if he has given life to all people, because in such an action lies the safety of all people. My messengers brought to the Israelites clear signs and evidences. Despite this many of them overstepped My limits by committing sins and going against the messengers.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں