سورہ 48 · پارہ 26
سورة الفتح · 48:18
۞ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے*۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا** اور ان پر اطمینان نازل فرمایا*** اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی.****
____________________
* یہ ان اصحاب بیعت رضوان کے لئے رضائے الٰہی اور ان کے پکے سچے مومن ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے، جنہوں نے حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش مکہ سے لڑیں گے اور راہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔
**- یعنی ان کے دلوں میں جو صدق وصفا کے جذبات تھے، اللہ ان سے بھی واقف ہے۔ اس سے ان دشمنان صحابہ (رضي الله عنهم) کا رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ ان کا ایمان ظاہری تھا، دل سے وہ منافق تھے۔
***- یعنی وہ نہتے تھے، جنگ کی نیت سی نہیں گئے تھے، اس لئے جنگی ہتھیار مطلوبہ تعداد میں نہیں تھے۔ اس کے باوجود جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عثمان (رضي الله عنه) کا بدلہ لینے کے لئے ان سے جہاد کی بیعت لی تو بلا ادنیٰ تامل، سب لڑنے کے لئے تیار ہوگئے، یعنی ہم نے موت کا خوف ان کےدلوں سے نکال دیا اور اس کی جگہ صبر وسکینت ان پر نازل فرما دی جس کی بنا پر انہیں لڑنے کا حوصلہ ہوا۔
****- اس سے مراد وہی فتح خیبر ہے جو یہودیوں کا گڑھ تھا، اور حدیبیہ سے واپسی پر مسلمانوں نے اسے فتح کیا۔
____________________
* یہ ان اصحاب بیعت رضوان کے لئے رضائے الٰہی اور ان کے پکے سچے مومن ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے، جنہوں نے حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش مکہ سے لڑیں گے اور راہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔
**- یعنی ان کے دلوں میں جو صدق وصفا کے جذبات تھے، اللہ ان سے بھی واقف ہے۔ اس سے ان دشمنان صحابہ (رضي الله عنهم) کا رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ ان کا ایمان ظاہری تھا، دل سے وہ منافق تھے۔
***- یعنی وہ نہتے تھے، جنگ کی نیت سی نہیں گئے تھے، اس لئے جنگی ہتھیار مطلوبہ تعداد میں نہیں تھے۔ اس کے باوجود جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عثمان (رضي الله عنه) کا بدلہ لینے کے لئے ان سے جہاد کی بیعت لی تو بلا ادنیٰ تامل، سب لڑنے کے لئے تیار ہوگئے، یعنی ہم نے موت کا خوف ان کےدلوں سے نکال دیا اور اس کی جگہ صبر وسکینت ان پر نازل فرما دی جس کی بنا پر انہیں لڑنے کا حوصلہ ہوا۔
****- اس سے مراد وہی فتح خیبر ہے جو یہودیوں کا گڑھ تھا، اور حدیبیہ سے واپسی پر مسلمانوں نے اسے فتح کیا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
18. Verily, Allah was pleased with the believers when they were giving their oaths to you at Ḥudaybīyyah i.e. Bay‘at Al-Riḍwān under the tree. Allah knew of the faith, sincerity and honesty in their hearts and sent down tranquility on their hearts. And He rewarded them for it with a victory in the near future i.e. the victory over Khaybar, as consolation for them missing out on being able to enter Makkah.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں