سورہ 47 · پارہ 26
سورة محمد · 47:18
فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ
تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں*، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟**
____________________
* یعنی نبی (صلى الله عليه وسلم)کی بعثت بجائے خود قرب قیامت کی ایک علامت ہے، جیسا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے بھی فرمایا بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ (صحيح بخاري تفسير سورة النازعات”میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہے“۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اشارہ کرکے واضح فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں باہم ملی ہوئی ہیں، اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان فاصلہ نہیں ہے یا یہ کہ جس طرح ایک انگلی دوسری انگلی سے ذرا سا آگے ہے اسی طرح قیامت میرے ذرا سا بعد ہے۔
**- یعنی جب قیامت اچانک آجائے گی تو کافر کس طرح نصیحت حاصل کر سکیں گے؟ مطلب ہے کہ اس وقت اگر وہ توبہ کریں گے بھی تو وہ مقبول نہیں ہوگی۔ اس لئے اگر توبہ کرنی ہے تو یہی وقت ہے۔ ورنہ وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ ان کی توبہ بھی غیر مفید ہوگی۔
____________________
* یعنی نبی (صلى الله عليه وسلم)کی بعثت بجائے خود قرب قیامت کی ایک علامت ہے، جیسا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے بھی فرمایا بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ (صحيح بخاري تفسير سورة النازعات”میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہے“۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اشارہ کرکے واضح فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں باہم ملی ہوئی ہیں، اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان فاصلہ نہیں ہے یا یہ کہ جس طرح ایک انگلی دوسری انگلی سے ذرا سا آگے ہے اسی طرح قیامت میرے ذرا سا بعد ہے۔
**- یعنی جب قیامت اچانک آجائے گی تو کافر کس طرح نصیحت حاصل کر سکیں گے؟ مطلب ہے کہ اس وقت اگر وہ توبہ کریں گے بھی تو وہ مقبول نہیں ہوگی۔ اس لئے اگر توبہ کرنی ہے تو یہی وقت ہے۔ ورنہ وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ ان کی توبہ بھی غیر مفید ہوگی۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
18. Are the disbelievers waiting for anything but the hour to come on them suddenly without their having any prior knowledge of it? Its signs have already come, such as the mission of the Prophet (peace be upon him) and the splitting of the moon. How will they then take heed when the hour comes? It is unlikely that the reminder will be of benefit to them.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں