سورہ 46 · پارہ 26

سورة الأحقاف · 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ۚ بَلَاغٌ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ

پس (اے پیغمبر!) تم ایسا صبر کرو جیسا صبر عالی ہمت رسولوں نے کیا اور ان کے لئے (عذاب طلب کرنے میں) جلدی نہ کرو*، یہ جس دن اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا وعده دیئے جاتے ہیں تو (یہ معلوم ہونے لگے گا کہ) دن کی ایک گھڑی ہی (دنیا میں) ٹھہرے** تھے، یہ ہے پیغام پہنچا*** دینا، پس بدکاروں کے سوا کوئی ہلاک نہ کیا جائے گا.****
____________________
* یہ کفار مکہ کے رویے کے مقابلے میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے اور صبر کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔
**- قیامت کاہولناک عذاب دیکھنے کے بعد انہیں دنیا کی زندگی ایسے معلوم ہوگی جیسے دن کی صرف ایک گھڑی یہاں گزار کر گئے ہیں۔
***- یہ متبدا محذوف کی خبرہے۔ أَيْ : هَذَا الَّذِي وَعَظْتَهَمْ بِهِ بَلاغٌ یہ وہ نصیحت یا پیغام ہے جس کا پہنچانا تیرا کام ہے۔
****- اس آیت میں بھی اہل ایمان کے لئے خوش خبری اور حوصلہ افزائی ہے کہ ہلاکت اخروی صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو اللہ کےنافرمان اور اس کی حدود پامال کرنے والے ہیں۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

35. So be patient - O Messenger - against your people’s denial of you just as the messengers of firm resolve were patient. These were the following messengers in addition to our Prophet (peace be upon him): Noah, Abraham, Moses and Jesus (peace be upon them). Do not seek to hasten the punishment for them. The deniers from your people, on the day when they will see the punishment that they are warned about in the Hereafter, will be as if they did not remain in the world except for an hour of a day due to the length of their punishment. This Qur’ān that is revealed to Muhammad (peace be upon him) is a notice to all people as well to the jinn, and only those who go against Allah by disbelief and sins will be destroyed by the punishment.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں