سورہ 46 · پارہ 26

سورة الأحقاف · 46:11

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَا سَبَقُونَا إِلَيْهِ ۚ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَٰذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ

اور کافروں نے ایمان داروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے، اور چونکہ انہوں نے قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے.*
____________________
* کفار مکہ، حضرت بلال، عمار، صہیب اور خباب (رضي الله عنهم) جیسے مسلمانوں کو، جو غریب وقلاش قسم کے لوگ تھے، لیکن اسلام قبول کرنے سے انہیں سابقیت کا شرف حاصل ہوا، دیکھ کر کہتے کہ اگر اس دین میں بہترین ہوتی تو ہم جیسے ذی عزت وذی مرتبہ لوگ سب سے پہلے اسے قبول کرتے نہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لاتے۔ یعنی اپنے طور پر انہوں نے اپنی بابت یہ فرض کر لیا کہ اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے، اس لئے اگر یہ دین بھی اللہ کی طرف سے ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے قبول کرنے میں پیچھے نہ چھوڑتا، اور جب ہم نے اسے نہیں اپنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک پرانا جھوٹ ہے۔ یعنی قرآن کو انہوں نے پرانا جھوٹ قرار دیا ہے۔ جیسے وہ اسے أَسَاِطِيرُ الأوَّلِينَ بھی کہتے تھے، حالانکہ دنیوی مال ودولت میں ممتاز ہونا، عند اللہ مقبولیت کی دلیل نہیں۔ ”جیسے ان کو مغالطہٰ ہوا یا شیطان نے مغالطے میں ڈالا“ عند اللہ مقبولیت کے لئے تو ایمان واخلاص کی ضرورت ہے۔ اور اس دولت ایمان واخلاص سے وہ جس کو چاہتا ہے، نوازتا ہے، جیسے وہ مال ودولت آزمائش کے طور پر جس کو چاہتا ہے، دیتا ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

11. And those who denied the Qur’ān and what their Messenger brought to them say: “If what Muhammad brought was true and guides towards good, these paupers, servants and weak people would not have preceded us towards it”. And because they are not guided to what their Messenger brought them, they will say: “This which he has brought us is an old lie, and we do not follow lies”.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں