سورہ 44 · پارہ 25
سورة الدخان · 44:33
وَآتَيْنَاهُمْ مِنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُبِينٌ
اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی.*
____________________
* آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیے گئے تھے، ان میں آزمائش کا پہلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں؟ یا پھر آیات سے مراد وہ احسانات ہیں جو اللہ نے ان پر فرمائے۔ مثلاً فرعونیوں کو غرق کر کے ان کو نجات دینا، ان کے لیے دریا کو پھاڑ کر راستہ بنانا، بادلوں کا سایہ اور من وسلویٰ کا نزول وغیرہ۔ اس میں آزمائش یہ ہے کہ ان احسانات کے بدلے میں یہ قوم اللہ کی فرماں برداری کا راستہ اختیار کرتی ہے یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے اس کی بغاوت اور سرکشی کا راستہ اپناتی ہے۔
____________________
* آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیے گئے تھے، ان میں آزمائش کا پہلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں؟ یا پھر آیات سے مراد وہ احسانات ہیں جو اللہ نے ان پر فرمائے۔ مثلاً فرعونیوں کو غرق کر کے ان کو نجات دینا، ان کے لیے دریا کو پھاڑ کر راستہ بنانا، بادلوں کا سایہ اور من وسلویٰ کا نزول وغیرہ۔ اس میں آزمائش یہ ہے کہ ان احسانات کے بدلے میں یہ قوم اللہ کی فرماں برداری کا راستہ اختیار کرتی ہے یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے اس کی بغاوت اور سرکشی کا راستہ اپناتی ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
33. And I granted them miracles through which I gave strength to Moses, and in which there was an obvious blessing for them, like the Mann and Salwā and other than them.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں