سورہ 41 · پارہ 24

سورة فصلت · 41:39

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنَّكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ۚ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۚ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

اس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے* پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وه تر وتازه ہوکر ابھرنے لگتی ہے** جس نے اسے زنده کیا وہی یقینی طور پر مُردوں کو بھی زنده کرنے واﻻ ہے***، بیشک وه ہر (ہر) چیز پر قادر ہے.
____________________
* خَاشِعَةً کا مطلب، خشک اور قحط زدہ یعنی مردہ۔
**- یعنی انواع و اقسام کے خوش ذائقہ پھل اور غلے پیدا کرتی ہے۔
***- مردہ زمین کو بارش کے ذریعے سے اس طرح زندہ کر دینا اور اسے روئیدگی کے قابل بنا دینا، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مردوں کو بھی یقیناً زندہ کرے گا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

39. And also from among the signs of Allah that point towards His oneness and power to resurrect, is that you see the earth without any plants on it. Then, when He sends rainwater on it, it begins to move due to the hidden growth of seeds within it and it raises. Indeed, the being who revived this barren earth through growth is the one who will revive the dead and resurrect them to take them to account and requite them. Indeed, He is capable of everything; reviving the earth after it has become barren is not impossible for Him, nor is reviving the dead and resurrecting them from their graves.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں