سورہ 4 · پارہ 5
سورة النساء · 4:79
مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ ۚ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا
تجھے جو بھلائی ملتی ہے وه اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے* اور جو برائی پہنچتی ہے وه تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے**، ہم نے تجھے تمام لوگوں کو پیغام پہنچانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ گواه کافی ہے۔
____________________
* یعنی اس کے فضل وکرم سے ہے یعنی کسی نیکی یا اطاعت کا صلہ نہیں ہے۔ کیونکہ نیکی کی توفیق بھی دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ علاوہ ازیں اس کی نعمتیں اتنی بے پایاں ہیں کہ ایک انسان کی عبادت وطاعت اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔ اسی لئے ایک حدیث میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: جنت میں جو بھی جائے گا، محض اللہ کی رحمت سے جائے گا (اپنے عمل کی وجہ سے نہیں)، صحابہ (رضي الله عنهم) نے عرض کیا یا رسول اللہ! وَلا أنت؟َ آپ (صلى الله عليه وسلم) بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائیں گے؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ہاں جب تک اللہ مجھے بھی اپنے دامان رحمت میں نہیں ڈھانک لے گا جنت میں نہیں جاؤں گا۔ (صحيح بخاري، كتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل۔18)
**- یہ برائی بھی اگرچہ اللہ کی مشیت سے ہی آتی ہے۔ جیسا کہ ”كُلّٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ“ سے واضح ہے لیکن یہ برائی کسی گناہ کی عقوبت یا اس کا بدلہ ہوتی ہے۔ اس لئے فرمایا کہ یہ تمہارے نفس سے ہے یعنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہے۔ جس طرح فرمایا «وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ» (الشورى: 30 ) ”تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے اور بہت سے گناہ تو معاف ہی فرما دیتا ہے»“
____________________
* یعنی اس کے فضل وکرم سے ہے یعنی کسی نیکی یا اطاعت کا صلہ نہیں ہے۔ کیونکہ نیکی کی توفیق بھی دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ علاوہ ازیں اس کی نعمتیں اتنی بے پایاں ہیں کہ ایک انسان کی عبادت وطاعت اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔ اسی لئے ایک حدیث میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: جنت میں جو بھی جائے گا، محض اللہ کی رحمت سے جائے گا (اپنے عمل کی وجہ سے نہیں)، صحابہ (رضي الله عنهم) نے عرض کیا یا رسول اللہ! وَلا أنت؟َ آپ (صلى الله عليه وسلم) بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائیں گے؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ہاں جب تک اللہ مجھے بھی اپنے دامان رحمت میں نہیں ڈھانک لے گا جنت میں نہیں جاؤں گا۔ (صحيح بخاري، كتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل۔18)
**- یہ برائی بھی اگرچہ اللہ کی مشیت سے ہی آتی ہے۔ جیسا کہ ”كُلّٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ“ سے واضح ہے لیکن یہ برائی کسی گناہ کی عقوبت یا اس کا بدلہ ہوتی ہے۔ اس لئے فرمایا کہ یہ تمہارے نفس سے ہے یعنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہے۔ جس طرح فرمایا «وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ» (الشورى: 30 ) ”تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے اور بہت سے گناہ تو معاف ہی فرما دیتا ہے»“
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
79. O humankind, any good that pleases you – such as wealth or children – is from Allah. He has sent it to you through His grace. Whatever bad occurs to you in respect of your wealth or children is from your own self because of the sins you commit. I have sent you, O Prophet, as a messenger to all people to communicate to them the message of your Lord. Allah is enough of a witness to the truth of what you communicate from Him, because of the evidences and proof He has given you.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں