سورہ 4 · پارہ 5
سورة النساء · 4:41
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا
پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواه ہم ﻻئیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بناکر ﻻئیں گے۔*
____________________
* ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دے گا کہ یااللہ ! ہم نے تو تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا، اب انہوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور ؟ پھر ان سب پر نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) گواہی دیں گے کہ یا اللہ! یہ سچے ہیں۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) یہ گواہی اس قرآن کی وجہ سے دیں گے جو آپ (صلى الله عليه وسلم) پر نازل ہوا اور جس میں گزشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشت بھی حسب ضرورت بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک سخت مقام ہوگا، اس کا تصور ہی لرزہ براندام کر دینے والا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے قرآن سننے کی خواہش ظاہر فرمائی، وہ سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”بس، اب کافی ہے“۔ حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) کی دونوں آنکھوں میں آنسو رواں تھے۔ (صحيح بخاري، فضائل القرآن) بعض لوگ کہتے ہیں کہ گواہی وہی دے سکتا ہے جو سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اس لئے وہ شہید (گواہ) کے معنی حاضر ناظر کے کرتے ہیں اور یوں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو حاضر ناظر باور کراتے ہیں۔ لیکن نبی (صلى الله عليه وسلم) کو حاضر ناظر سمجھنا، یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اللہ کی صفت میں شریک کرنا ہے جو شرک ہے کیونکہ حاضر وناظر صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ شہید کے لفظ سے ان کا استدلال اپنے اندر کوئی قوت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ شہادت یقینی علم کی بنیاد پر بھی ہوتی ہے اور قرآن میں بیان کردہ حقائق وواقعات سے زیادہ یقینی علم کس کا ہو سکتا ہے؟ اسی یقینی علم کی بنیاد پر خود امت محمدیہ کو بھی قرآن نے ”شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ“ (تمام کائنات کے لوگوں پر گواہ) کہا ہے۔ اگر گواہی کے لئے حاضر وناظر ہونا ضروری ہے تو پھر امت محمدیہ کے ہر فرد کو حاضر وناظر ماننا پڑے گا۔ بہرحال نبی (صلى الله عليه وسلم) کے بارے میں یہ عقیدہ مشرکانہ اور بے بنیاد ہے۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ
____________________
* ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دے گا کہ یااللہ ! ہم نے تو تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا، اب انہوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور ؟ پھر ان سب پر نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) گواہی دیں گے کہ یا اللہ! یہ سچے ہیں۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) یہ گواہی اس قرآن کی وجہ سے دیں گے جو آپ (صلى الله عليه وسلم) پر نازل ہوا اور جس میں گزشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشت بھی حسب ضرورت بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک سخت مقام ہوگا، اس کا تصور ہی لرزہ براندام کر دینے والا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے قرآن سننے کی خواہش ظاہر فرمائی، وہ سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”بس، اب کافی ہے“۔ حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) کی دونوں آنکھوں میں آنسو رواں تھے۔ (صحيح بخاري، فضائل القرآن) بعض لوگ کہتے ہیں کہ گواہی وہی دے سکتا ہے جو سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اس لئے وہ شہید (گواہ) کے معنی حاضر ناظر کے کرتے ہیں اور یوں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو حاضر ناظر باور کراتے ہیں۔ لیکن نبی (صلى الله عليه وسلم) کو حاضر ناظر سمجھنا، یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اللہ کی صفت میں شریک کرنا ہے جو شرک ہے کیونکہ حاضر وناظر صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ شہید کے لفظ سے ان کا استدلال اپنے اندر کوئی قوت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ شہادت یقینی علم کی بنیاد پر بھی ہوتی ہے اور قرآن میں بیان کردہ حقائق وواقعات سے زیادہ یقینی علم کس کا ہو سکتا ہے؟ اسی یقینی علم کی بنیاد پر خود امت محمدیہ کو بھی قرآن نے ”شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ“ (تمام کائنات کے لوگوں پر گواہ) کہا ہے۔ اگر گواہی کے لئے حاضر وناظر ہونا ضروری ہے تو پھر امت محمدیہ کے ہر فرد کو حاضر وناظر ماننا پڑے گا۔ بہرحال نبی (صلى الله عليه وسلم) کے بارے میں یہ عقیدہ مشرکانہ اور بے بنیاد ہے۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
41. What will it be like on the Day of Judgement, when Allah brings the prophet of each community to bear witness against their actions, and Allah brings the Prophet Muhammad (peace be upon him) as a witness for all the communities and messengers?
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں