سورہ 4 · پارہ 5
سورة النساء · 4:29
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ*، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے ہو خرید وفروخت**، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو*** یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے۔
____________________
* بِالْبَاطِلِ میں دھوکہ، فریب، جعل سازی، ملاوٹ کے علاوہ وہ تمام کاروبار بھی شامل ہیں جن سے شریعت نے منع کیا ہے، جیسے قمار، ربا، وغیرہ۔ اسی طرح ممنوع اور حرام چیزوں کا کاروبار کرنا بھی باطل میں شامل ہے۔ مثلاً بلا ضرورت فوٹو گرافی، ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، ویڈیو فلمیں اور فحش کیسٹیں وغیرہ۔ ان کا بنانا، بیچنا، مرمت کرنا سب ناجائز ہے۔
**- اس کےلئے بھی شرط یہ ہے کہ یہ لین دین حلال اشیا کا ہو، حرام اشیاء کا کاروبار باہمی رضامندی کے باوجود ناجائز ہی رہے گا۔ علاوہ ازیں رضامندی میں خیارمجلس کا مسئلہ بھی آجاتا ہے یعنی جب تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں سودا فسخ کرنے کا اختیار رہے گا جیسا کہ حدیث میں ہے ”الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا“ (صحيح بخاري- ومسلم كتاب البيوع) دونوں باہم سودا کرنے والوں کو، جب تک جدا نہ ہوں، اختیار ہے۔
***- اس سے مراد خودکشی بھی ہو سکتی ہے جو کیبرہ گناہ ہے اور ارتکاب معصیت بھی جو ہلاکت کا باعث ہے اور کسی مسلمان کو قتل کرنا بھی کیونکہ مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ اس لئے اس کا قتل بھی ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو قتل کیا۔
____________________
* بِالْبَاطِلِ میں دھوکہ، فریب، جعل سازی، ملاوٹ کے علاوہ وہ تمام کاروبار بھی شامل ہیں جن سے شریعت نے منع کیا ہے، جیسے قمار، ربا، وغیرہ۔ اسی طرح ممنوع اور حرام چیزوں کا کاروبار کرنا بھی باطل میں شامل ہے۔ مثلاً بلا ضرورت فوٹو گرافی، ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، ویڈیو فلمیں اور فحش کیسٹیں وغیرہ۔ ان کا بنانا، بیچنا، مرمت کرنا سب ناجائز ہے۔
**- اس کےلئے بھی شرط یہ ہے کہ یہ لین دین حلال اشیا کا ہو، حرام اشیاء کا کاروبار باہمی رضامندی کے باوجود ناجائز ہی رہے گا۔ علاوہ ازیں رضامندی میں خیارمجلس کا مسئلہ بھی آجاتا ہے یعنی جب تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں سودا فسخ کرنے کا اختیار رہے گا جیسا کہ حدیث میں ہے ”الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا“ (صحيح بخاري- ومسلم كتاب البيوع) دونوں باہم سودا کرنے والوں کو، جب تک جدا نہ ہوں، اختیار ہے۔
***- اس سے مراد خودکشی بھی ہو سکتی ہے جو کیبرہ گناہ ہے اور ارتکاب معصیت بھی جو ہلاکت کا باعث ہے اور کسی مسلمان کو قتل کرنا بھی کیونکہ مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ اس لئے اس کا قتل بھی ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو قتل کیا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
29. O you who have faith in Allah and follow His Messenger, do not take the money of others unjustly, by force, stealing, bribery or by any other unjust means. Instead, money should come from trade through mutual agreement and goodwill between the seller and buyer. In this way, it is lawful for you to enjoy and use such money. Do not kill one another, and do not kill yourselves, and do not throw yourselves to ruin. Allah is Compassionate with you, and from His mercy He makes these laws.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں