سورہ 4 · پارہ 4

سورة النساء · 4:20

وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا

اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا ہی چاہو اور ان میں سے کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو، تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو* کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناه ہوتے ہوئے بھی لے لو گے ۔
____________________
* خود طلاق دینے کی صورت میں حق مہر واپس لینے سے نہایت سختی کے ساتھ روک دیا گیا ہے۔ قنطار خزانے اور مال کثیر کو کہتے ہیں یعنی کتنابھی حق مہر دیا ہو واپس نہیں لے سکتے۔ اگر ایسا کرو گے تو یہ ظلم (بہتان) اور کھلا گناہ ہوگا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

20. If you want to divorce a woman and replace her with another, then you are allowed to do so; but if you gave the one you intend to divorce a great deal of wealth as a dowry, then you are not allowed to take anything back from it. Taking back what you gave to them would be an injustice and a clear sin.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں