سورہ 4 · پارہ 4
سورة النساء · 4:2
وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا
اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور پاک اور حلال چیز کے بدلے ناپاک اور حرام چیز نہ لو، اور اپنے مالوں کے ساتھ ان کے مال ملا کر کھا نہ جاؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناه ہے۔*
____________________
* یتیم جب بالغ اور باشعورہو جائیں تو ان کا مال ان کے سپرد کر دو۔ خبیث سے گھٹیا چیزیں اور طیب سے عمدہ چیزیں مراد ہیں یعنی ایسا نہ کرو کہ ان کے مال سے اچھی چیزیں لے لو اور محض گنتی پوری کرنے کے لئے گھٹیا چیزیں ان کے بدلے میں رکھ دو۔ ان گھٹیا چیزوں کو خبیث (ناپاک) اور عمدہ چیزوں کو طیب (پاک) سے تعبیر کرکے اس طرف اشارہ کر دیا کہ اس طرح بدلایا گیا مال، جو اگرچہ اصل میں تو طیب (پاک اور حلال) ہے لیکن تمہاری اس بد دیانتی نے اس میں خباثت داخل کر دی اور وہ اب طیب نہیں رہا، بلکہ تمہارےحق میں وہ خبیث (ناپاک اور حرام) ہوگیا۔ اسی طرح بددیانتی سے ان کا مال اپنے مال میں ملا کرکھانا بھی ممنوع ہے ورنہ اگر مقصد خیر خواہی ہو تو ان کے مال کو اپنے مال میں ملانا جائز ہے۔
____________________
* یتیم جب بالغ اور باشعورہو جائیں تو ان کا مال ان کے سپرد کر دو۔ خبیث سے گھٹیا چیزیں اور طیب سے عمدہ چیزیں مراد ہیں یعنی ایسا نہ کرو کہ ان کے مال سے اچھی چیزیں لے لو اور محض گنتی پوری کرنے کے لئے گھٹیا چیزیں ان کے بدلے میں رکھ دو۔ ان گھٹیا چیزوں کو خبیث (ناپاک) اور عمدہ چیزوں کو طیب (پاک) سے تعبیر کرکے اس طرف اشارہ کر دیا کہ اس طرح بدلایا گیا مال، جو اگرچہ اصل میں تو طیب (پاک اور حلال) ہے لیکن تمہاری اس بد دیانتی نے اس میں خباثت داخل کر دی اور وہ اب طیب نہیں رہا، بلکہ تمہارےحق میں وہ خبیث (ناپاک اور حرام) ہوگیا۔ اسی طرح بددیانتی سے ان کا مال اپنے مال میں ملا کرکھانا بھی ممنوع ہے ورنہ اگر مقصد خیر خواہی ہو تو ان کے مال کو اپنے مال میں ملانا جائز ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
2. Guardians, give orphans (whose fathers have died and who have not yet reached maturity) their wealth in full when they come of age and have sound judgement. Do not exchange what is permitted for what is prohibited: taking what is good and valuable from the property of the orphans and replacing it with something bad and of little worth from your own property. Also, do not take the property of the orphans and combine it with your own wealth – that is a great crime before Allah.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں