سورہ 4 · پارہ 6

سورة النساء · 4:172

لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَنْ يَسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا

مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بنده ہونے میں کوئی ننگ و عار یا تکبر وانکار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور نہ مقرب فرشتوں کو*، اس کی بندگی سے جو بھی دل چرائے اور تکبر و انکار کرے، اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا۔
____________________
* حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی طرح بعض لوگوں نے فرشتوں کو بھی خدائی میں شریک ٹھہرا رکھا تھا، اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ یہ تو سب کے سب اللہ کے بندے ہیں اور اس سے انہیں قطعاً کوئی انکار نہیں ہے۔ تم انہیں اللہ یا اس کی الوہیت میں شریک کس بنیاد پر بناتے ہو؟

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

172. Jesus, son of Mary, will never be proud and reject being a servant of Allah. The close angels who do not go against Allah’s instruction and who do as they are instructed will also never disregard being Allah’s servants. How, then, do you take Jesus as a god? How do the idolaters take angels as gods? If anyone rejects worshipping Allah and turns away from it, the He will gather all of them before Him on the Day of Rising and will recompense each one with what they deserve.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں