سورہ 4 · پارہ 4
سورة النساء · 4:15
وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا
تمہاری عورتوں میں سے جو بے حیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواه طلب کرو، اگر وه گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو، یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کردے*، یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور راستہ نکالے۔**
____________________
* یہ بدکار عورتوں کی بدکاری کی وہ سزا ہے جو ابتدائے اسلام میں، جب کہ زنا کی سزا متعین نہیں ہوئی تھی، عارضی طور پر مقرر کی گئی تھی ہاں یہ بھی یاد رہے کہ عربی زبان میں ایک سے دس تک کی گنتی میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ عدد مذکر ہوگا تو معدود مونث اور عدد مونث ہوگا تو معدود مذکر۔ یہاں اربعہ (یعنی 4 کا عدد) مونث ہے، اس لئے اس کا معدود جو یہاں ذکر نہیں کیا گیا اور محذوف ہے، یقیناً مذکر آئے گا اور وہ ہے رجال یعنی اربعہ رجال جس سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ اثبات زنا کے لئے چار مرد گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ گویا جس طرح زنا کی سزا سخت مقرر کی گئی ہے، اس کے اثبات کے گواہوں کی کڑی شرط عائد کر دی گئی ہے یعنی چار مسلمان مرد عینی گواہ، اس کے بغیر شرعی سزا کا اثبات ممکن نہیں ہوگا۔
**- اس راستے سے مراد زنا کی وہ سزا ہے جو بعد میں مقرر کی گئی یعنی شادی شدہ زنا کار مرد وعورت کے لئے رجم اور غیر شادی شدہ بدکار مرد وعورت کے لئے سو سو کوڑے کی سزا۔ (جس کی تفصیل سورۂ نور اور احادیث صحیحہ میں موجود ہے)
____________________
* یہ بدکار عورتوں کی بدکاری کی وہ سزا ہے جو ابتدائے اسلام میں، جب کہ زنا کی سزا متعین نہیں ہوئی تھی، عارضی طور پر مقرر کی گئی تھی ہاں یہ بھی یاد رہے کہ عربی زبان میں ایک سے دس تک کی گنتی میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ عدد مذکر ہوگا تو معدود مونث اور عدد مونث ہوگا تو معدود مذکر۔ یہاں اربعہ (یعنی 4 کا عدد) مونث ہے، اس لئے اس کا معدود جو یہاں ذکر نہیں کیا گیا اور محذوف ہے، یقیناً مذکر آئے گا اور وہ ہے رجال یعنی اربعہ رجال جس سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ اثبات زنا کے لئے چار مرد گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ گویا جس طرح زنا کی سزا سخت مقرر کی گئی ہے، اس کے اثبات کے گواہوں کی کڑی شرط عائد کر دی گئی ہے یعنی چار مسلمان مرد عینی گواہ، اس کے بغیر شرعی سزا کا اثبات ممکن نہیں ہوگا۔
**- اس راستے سے مراد زنا کی وہ سزا ہے جو بعد میں مقرر کی گئی یعنی شادی شدہ زنا کار مرد وعورت کے لئے رجم اور غیر شادی شدہ بدکار مرد وعورت کے لئے سو سو کوڑے کی سزا۔ (جس کی تفصیل سورۂ نور اور احادیث صحیحہ میں موجود ہے)
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
15. For those of your women who commit sexual offences – whether they are married or unmarried – call four trustworthy Muslim men witnesses. If they bear witness against them, then confine them to their homes as a punishment, until the end of their lives, or until Allah makes a way for them other than being confined. The ruling of this verse was replaced with the ruling that unmarried women who have illicit sexual relations should be whipped a hundred times and banished for a year, and married women who have illicit sexual relations should be stoned.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں