سورہ 4 · پارہ 5
سورة النساء · 4:140
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا
اور اللہ تعالیٰ تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم اتار چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو! جب تک کہ وه اس کے علاوه اور باتیں نہ کرنے لگیں، (ورنہ) تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو*، یقیناً اللہ تعالیٰ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے واﻻ ہے۔
____________________
* یعنی منع کرنے کےباوجود اگر تم ایسی مجلسوں میں، جہاں آیات الٰہی کا استہزا کیا جاتا ہو بیٹھو گے اور اس پر نکیر نہیں کرو گے تو پھر تم بھی گناہ میں ان کے برابر ہوگے۔ جیسے ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اس دعوت میں شریک نہ ہو جس میں شراب کے دور چلے۔ (مسند أحمدجلد 1 ص 20، جلد 3 ص 339) اس سے معلوم ہوا کہ ایسی مجلسوں اور اجتماعات میں شریک ہونا، جن میں اللہ ورسول (صلى الله عليه وسلم) کے احکام کا قولاً یا عملاً مذاق اڑایا جاتا ہو، جیسے آج کل امرا، فیشن ایبل اور مغرب زدہ حلقوں میں بالعموم ایسا ہوتا ہے یا شادی بیاہ اور سالگرہ وغیرہ کی تقریبات میں کیا جاتا ہے، سخت گناہ ہے «إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» کی وعید قرآنی اہل ایمان کے اندر کپکپی طاری کر دینے کے لئے کافی ہے بشرطیکہ دل کے اندر ایمان ہو۔
____________________
* یعنی منع کرنے کےباوجود اگر تم ایسی مجلسوں میں، جہاں آیات الٰہی کا استہزا کیا جاتا ہو بیٹھو گے اور اس پر نکیر نہیں کرو گے تو پھر تم بھی گناہ میں ان کے برابر ہوگے۔ جیسے ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اس دعوت میں شریک نہ ہو جس میں شراب کے دور چلے۔ (مسند أحمدجلد 1 ص 20، جلد 3 ص 339) اس سے معلوم ہوا کہ ایسی مجلسوں اور اجتماعات میں شریک ہونا، جن میں اللہ ورسول (صلى الله عليه وسلم) کے احکام کا قولاً یا عملاً مذاق اڑایا جاتا ہو، جیسے آج کل امرا، فیشن ایبل اور مغرب زدہ حلقوں میں بالعموم ایسا ہوتا ہے یا شادی بیاہ اور سالگرہ وغیرہ کی تقریبات میں کیا جاتا ہے، سخت گناہ ہے «إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» کی وعید قرآنی اہل ایمان کے اندر کپکپی طاری کر دینے کے لئے کافی ہے بشرطیکہ دل کے اندر ایمان ہو۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
140. Allah has already revealed to you, O believers, in the noble Qur’ān that if you are sitting in a gathering and you hear a person disbelieving in Allah’s words starting to make fun of them, then you must not sit with them and you must leave the gathering until they begin speaking about something other than disbelief and making fun of Allah’s words. If you sit with them while you hear them disbelieving in and mocking at Allah’s words, then you are like them in not following Allah’s instruction, because you went against Allah by sitting with them just as they went against Him by disbelieving in Him. Allah will gather the hypocrites, who show themselves as Muslims on the outside but hide disbelief inside themselves, and the disbelievers together in the fire of Hell on the Day of Judgement.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں