سورہ 39 · پارہ 24
سورة الزمر · 39:47
وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِنْ سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَبَدَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ
اگر ﻇلم کرنے والوں کے پاس وه سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو، تو بھی بدترین سزا کے بدلے میں قیامت کے دن یہ سب کچھ دے دیں*، اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وه ﻇاہر ہوگا جس کا گمان بھی انہیں نہ تھا.**
____________________
* لیکن پھر بھی وہ قبول نہیں ہوگا، جیساکہ دوسرےمقام پروضاحت ہے۔ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ (آل عمران: 91) ”وہ زمین بھر سونا بھی بدلے میں دے دیں، تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا“۔ اس لیے کہ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ (البقرة: 48) ”وہاں معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا“۔
**- یعنی عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکیاں اور اس کی انواع و اقسام ایسی ہوں گی کہ کبھی ان کے گمان میں نہ آئی ہوں گی۔
____________________
* لیکن پھر بھی وہ قبول نہیں ہوگا، جیساکہ دوسرےمقام پروضاحت ہے۔ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ (آل عمران: 91) ”وہ زمین بھر سونا بھی بدلے میں دے دیں، تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا“۔ اس لیے کہ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ (البقرة: 48) ”وہاں معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا“۔
**- یعنی عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکیاں اور اس کی انواع و اقسام ایسی ہوں گی کہ کبھی ان کے گمان میں نہ آئی ہوں گی۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
47. If those who wronged themselves, by worshipping other than Allah and committing sins, could have all of the wealth and treasures on this earth to ransom themselves from the severe punishment on the day of resurrection, they would do so. However even if they did, the ransom would not be accepted from them. Rather they will face from Allah various types of torment they never used to expect
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں