سورہ 38 · پارہ 23
سورة ص · 38:10
أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ
یا کیا آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی بادشاہت ان ہی کی ہے، تو پھر یہ رسیاں تان کر چڑھ جائیں.*
____________________
* یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کر دیں جو محمد (صلى الله عليه وسلم) پر نازل ہوتی ہے۔ اسباب، سبب کی جمع ہے۔ اس کے لغوی معنی ہر اس چیز کے ہیں جس کے ذریعے سے مطلوب تک پہنچا جائے، چاہے وہ کوئی سی بھی چیز ہو۔ اس لئے اس کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ رسیوں کے علاوہ ایک ترجمہ دروازے کا بھی کیا گیا ہے، جن سے فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ یعنی سیڑھیوں کے ذریعے سے آسمان کے دروازوں تک پہنچ چائیں اور وحی بند کر دیں۔ (فتح القدیر)۔
____________________
* یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کر دیں جو محمد (صلى الله عليه وسلم) پر نازل ہوتی ہے۔ اسباب، سبب کی جمع ہے۔ اس کے لغوی معنی ہر اس چیز کے ہیں جس کے ذریعے سے مطلوب تک پہنچا جائے، چاہے وہ کوئی سی بھی چیز ہو۔ اس لئے اس کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ رسیوں کے علاوہ ایک ترجمہ دروازے کا بھی کیا گیا ہے، جن سے فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ یعنی سیڑھیوں کے ذریعے سے آسمان کے دروازوں تک پہنچ چائیں اور وحی بند کر دیں۔ (فتح القدیر)۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
10. Or do they have the kingdom of the heavens and the earth, and possession of everything therein so they may chose who to give it to? If this is what claim they are making then let them adopt the means to go up to the heavens so they can then rule how they wish from above the heavens in who should be given and who should be held back from.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں