سورہ 36 · پارہ 23
سورة يس · 36:68
وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ ۖ أَفَلَا يَعْقِلُونَ
اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے* ہیں کیا پھر بھی وه نہیں سمجھتے.**
____________________
* یعنی جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں، اس کی پیدائش کو بدل کر برعکس حالت میں کر دیتے ہیں۔ یعنی جب وہ بچہ ہوتا ہے تو اس کی نشوونما جاری رہتی ہے اور اس کی عقلی اور بدنی قوتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ جوانی اور کہولت کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے برعکس اس کے قوائے عقلیہ وبدنیہ میں ضعف وانحطاط کا عمل شروع ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ ایک بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔
**- کہ جو اللہ اس طرح کر سکتا ہے، کیا وہ دوبارہ انسانوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟
____________________
* یعنی جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں، اس کی پیدائش کو بدل کر برعکس حالت میں کر دیتے ہیں۔ یعنی جب وہ بچہ ہوتا ہے تو اس کی نشوونما جاری رہتی ہے اور اس کی عقلی اور بدنی قوتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ جوانی اور کہولت کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے برعکس اس کے قوائے عقلیہ وبدنیہ میں ضعف وانحطاط کا عمل شروع ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ ایک بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔
**- کہ جو اللہ اس طرح کر سکتا ہے، کیا وہ دوبارہ انسانوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
68. Whoever’s life I extend by lengthening his lifespan, I return him to the stage of weakness. Do they not think with their intellect and understand that this abode is not one of permanence and immortality and that the everlasting abode is that of the Hereafter!
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں