سورہ 36 · پارہ 23

سورة يس · 36:60

۞ أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ

اے اوﻻد آدم! کیا میں نے تم سے قول قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا*، وه تو تمہارا کھلا دشمن ہے.**
____________________
* اس سے مراد عہد الست ہے جو حضرت آدم (عليه السلام) کی پشت سے نکالنے کے وقت لیا گیا تھا یا وہ وصیت ہے جو پیغمبروں کی زبان لوگوں کو کی جاتی رہی۔ اور بعض کے نزدیک وہ دلائل عقلیہ ہیں جو آسمان وزمین میں اللہ نےقائم کیے ہیں۔ (فتح القدیر)۔
**- یہ اس کی علت ہے کہ تمہیں شیطان کی عبادت اور اس کے وسوسے قبول کرنے سے اس لئے روکا گیا تھا کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس نے تمہیں ہر طرح گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

60. Did I not advise and instruct you on the tongues of My messengers and say to you: O children of Adam! Do not follow Satan by committing various types of disbelief and sins. Satan is a clear enemy to you. How can any sensible person follow an enemy of his who has made his enmity clear!

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں