سورہ 36 · پارہ 23

سورة يس · 36:35

لِيَأْكُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ

تاکہ (لوگ) اس کے پھل کھائیں*، اور اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا**۔ پھر کیوں شکر گزاری نہیں کرتے.
____________________
* یعنی بعض جگہ بھی چشمے جاری کرتے ہیں، جس کے پانی سے پیداہونے والے پھل لوگ کھائیں۔
**- امام ابن جریر کے نزدیک یہاں ما نافیہ ہے یعنی غلوں اور پھلوں کی یہ پیداوار، اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے۔ اس میں ان کی سعی ومحنت، کدوکاوش اور تصرف کا دخل نہیں ہے۔ پھر بھی یہ اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر کیوں نہیں کرتے؟ اور بعض کے نزدیک (مَا) موصولہ ہےجو الَّذِي کے معنی میں ہے یعنی تاکہ وہ اس کا پھل کھائیں اور ان چیزوں کو جن کو ان کے ہاتھوں نے بنایا۔ ہاتھوں کا عمل ہے، زمین کو ہموار کرکے بیج بونا، اسی طرح پھلوں کے کھانے کے مختلف طریقے ہیں، مثلاً انہیں نچوڑ کر ان کا رس پینا، مختلف فروٹوں کو ملاکر چاٹ بنانا، وغیرہ۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

35. So that people can eat of the fruits of those gardens that Allah has blessed them with and for which they did not make any effort. Do they not thank Allah, Who gave them all of that out of His bounty and mercy for them, by worshipping Him alone and having faith in His messengers?!

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں